انوارالعلوم (جلد 8) — Page 520
انوار العلوم جلد ۸ ۵۲۰ دورہ یورپ کے لئے مضمون لکھ رہا ہوں اس لئے طبیعت میں عجیب قسم کی بے چینی ہے۔ کام چھوڑا نہیں جاسکتا اور طبیعت کا ضعف اور متواتر پریشان کرنے والی خبروں کا اثر چاہتا ہے کہ کام میں وقفہ کیا جائے۔ اللہ تعالی ہی اپنا رحم فرمائے، مجھے کچھ دن اسہال سے آرام رہا تھا کل سے پھر اسہال شروع ہو گئے ہیں اور بخار تیز ہو گیا ہے۔ بھوک بالکل بند ہو گئی ہے اور کھانسی کی بھی شکایت ہے۔ میں نے چلنے سے پہلے کہا تھا کہ آپ لوگوں کو وہ کچھ معلوم نہیں جو مجھے معلوم ہے۔ اگر آپ لوگوں کو معلوم ہوتا تو آپ مجھ پر رحم کرتے۔ سو آپ نے اب دیکھ لیا ہے کہ برابر افسردہ کرنے والی خبریں چلی آرہی ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ افسردگی اور غم کے دن آگے ہیں۔ اور ان دنوں میں قادیان سے باہر جانا مجھ پر سخت دو بھر تھا۔ میں نے بعض ایسے نظارے دیکھے تھے جن کی تعبیر یہ تھی کہ عموم پیش آنے والے ہیں۔ دو تین دفعہ ایسی خواہیں دیکھیں کہ جن سے معلوم ہوتا تھا کہ میر صاحب جلد فوت ہونے والے ہیں اسی طرح بعض اور امور بھی رویا میں دیکھے۔ خدا تعالی کرے کہ بقیہ اخبار غم خوشی سے بدل جائیں اور یہ اس کی قدرت سے بعید نہیں۔ قادیان میں ہیضہ کی شکایت بھیرہ کا واقعہ قادیان کے بعض دوستوں پر مقدمہ نعمت الله صاحب شہید کا واقعہ مرکزی مالی حالت کی خرابی، میر صاحب کی وفات، بابو فضل کریم صاحب کی وفات قادیان کے کئی دوستوں اور بعض عزیز بچوں کی وفات کی خبریں ان دنوں بارش کی طرح پہنچیں ہیں۔ اوپر سے اپنی طبیعت کی بیماری اور کام کی کثرت نے ان کے اثر کو اور بھی زیادہ کر دیا ہے۔ اس وقت بھی کہ مضمون لکھ رہا ہوں بخار کی گرمی سے جسم پھنکا جا رہا ہے اور سردرد کر رہا ہے۔ نادان دشمن اعتراض تو کرتا ہے مگر اس کو کیا معلوم جو مجھے معلوم تھا اور ہے۔ اگر اسے وہ سب تکالیف معلوم ہوتیں جو مجھے معلوم تھیں تو وہ اپنے گھر سے قدم باہر نہ نکالتا۔ مگر افسوس کہ بعض لوگ پیدائشی اندھے ہوتے ہیں۔ اور اپنی بینائی پر افسوس کرنے کی بجائے دوسروں پر تمسخر کرتے ہیں۔ خدا کرے کہ آئندہ کی آفات اور عموم سے اللہ تعالی محفوظ رکھے کہ وہ رحم کرنے کرنے والا اور بخشنے والا ۔ بخشنے والا ہے۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۱۶ - اکتوبر ۱۹۲۴ء)