انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 511

انوار العلوم جلد ۸ ۵۱۱ دورہ یورپ طالب علم:۔ یہ بالکل درست ہے۔ عبدالحکیم :۔ سارے قرآن میں یہ ذکر ا یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت ملی ایم کے بعد کوئی رسول آئے گا۔ حضرت:۔ یہ بحث تو الگ رہی کہ ذکر ہے یا نہیں۔ لیکن فرض کرو کہ ایک شخص کا خیال ہے کہ رسول آئے گا تو اس کو کیا کہو گے۔ عبدا حکیم:۔ کیا وہ شریعت کو مکمل سمجھتا ہے؟ حضرت:۔ ہاں وہ مکمل سمجھتا ہے۔ اور باوجود اس کے وہ مانتا ہے کہ ایک رسول آیا ہے۔ یہ خیال غلط ہے یا صحیح مگر وہ مانتا ہے تو اس رسول کا جو انکار کرے اس کو وہ کیا کہے گا اور اس کا کیا حق ہے۔ عبدالحکیم :۔ ہاں اس کا حق ہے۔ ہے کہ وہ نہ ماننے والے کو کافر کہے۔ حضرت :۔ تو پھر معلوم ہوا کہ یہ سوال نہیں کہ کافر کیوں کہتے ہو بلکہ سوال یہ ہو گا کہ کہاں لکھا ہے کہ رسول آئے گا۔ اس پر حضرت اقدس نے سورہ اعراف کا تیسرا رکوع نکال کر پڑھا اور سوال کیا کہ اس میں یا بنی آدم کا جو خطاب ہے، ہے، یہ کس زمانہ کے لوگوں کیلئے ہے۔) پروفیسر عبدالحکیم :۔ وہ جو آنحضرت مسلم کے زمانہ میں موجود تھے یا آئندہ آئیں گے۔ حضرت:۔ بہت اچھا اب آگے چلئے چوتھے رکوع میں فرماتا ہے- يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمُ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آیاتِی ۔ اس میں کون لوگ مراد ہیں؟ پروفیسر عبدالحکیم :۔ وہی جو موجود تھے یا جو آئندہ ہوں گے۔ حضرت:۔ پھر یہ آیت کیا ثابت کرتی ہے؟ پروفیسر عبدالحکیم :۔ اس آیت سے یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء آئیں گے۔ میں نے جب اس کو پڑھا تھا تو یہی سمجھا تھا کہ رسول آئیں گے۔ حضرت:۔ پھر قرآن مجید سے یہ تو ثابت ہے کہ رسول آئیں گے پھر جو شخص کسی رسول کو مانتا ہے کہ آگیا کیا اس کو یہ حق نہیں کہ اس کے نہ ماننے والوں کو کافر کہے؟ پروفیسر عبدالحکیم :۔ ہاں اس کا حق ہے۔ وہی طالب علم: مگر میں نے مولوی محمد علی صاحب کے ترجمہ قرآن مجید میں یہ معنی نہیں پڑھے۔ حضرت:۔ اس کا مجھ سے کیا تعلق میں تو آپ ترجمہ کرتا ہوں اور ترجمہ صاف ہے۔ میں مولوی محمد علی صاحب کی اتباع نہیں کرتا۔ اور میں تعلی سے نہیں کہتا بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں