انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 509

انوار العلوم جلد ۸ ۵۰۹ دورہ یورپ کر سکتے اور حقیقت کے اظہار سے کوئی چیز ہم کو روک نہیں سکتی۔ ابھی ڈائر کے مقدمہ میں شہادت کا سوال تھا۔ ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ ہم ڈائر کی غلطیوں کا بھی اظہار کریں گے۔ غرض ہم نے کسی موقع پر اظہارِ حقیقت سے پر ہیز نہیں کیا ہے۔ عبدالحکیم :۔ میں ایک دفعہ شملہ پر تھاوہاں ایک احمدی نے کہا تھا کہ گورنمنٹ کی وجہ سے ہم مسلمانوں کی پناہ میں ہیں۔ حضرت:۔ اگر واقعات ایسے ہوں تو پھر اعتراض کیا ہے۔ کیا آپ اس کو جائز سمجھتے ہیں کہ کسی احمدی کی لڑکی کو پکڑ کر کنجروں کو دے دیا جاوے کہ اس کو گانا سکھاؤ۔ اور اس سے بڑھ کر کوئی ظلم اور بے حیائی ہو سکتی ہے کہ ایک عورت کی لاش کو قبر سے نکال کر کتوں کے سامنے پھینک دیا اور بعض اخباروں نے اس فعل کی تحسین کی اور کسی مسلمان سے نہ ہو سکا کہ ان پر اظہار افسوس کرتا۔ اختلاف کے سوال کو چھوڑ کر یہ کیسی بے رحمی اور بداخلاقی ہے۔ اسی رمضان میں ایک شخص کو پانی تک لینے نہ دیا اور سخت دکھ دیئے اور پکڑ کر بند کر دیا کہ وہ اپنی شکایت بھی نہ کر سکے۔ قصور میں ہماری جماعت کو جس طرح پر دُکھ دیا گیا وہ ایک تازہ مثال ہے۔ آئے دن مختلف مقامات پر مسلمان محض اختلاف کی وجہ سے ہماری جماعت کو تکلیف دیتے ہیں پھر ان حالات میں اگر اس نے یہ کہا تو کیا غلط ہے؟ عبدالحکیم :۔ حالات اس قسم ۔ قسم کے ہیں تو آپ اور آپ کی جماعت کا یہ کا یہ فرض ہے کہ اپنی حفاظت اس طریق پر کریں۔ مسئلہ خلافت کی وجہ سے بھی مخالفت ہوئی ہے۔ حضرت:۔ خلافت کے سوال کے متعلق سن لو جب لکھنو سلطنت ترکی سے ہمدردی میں خلافت کانفرنس کا پہلا جلسہ ہوا ہے تو مولوی عبد الباری صاحب نے مجھے دعوت دی اور بلایا۔ میں نے دیکھا کہ میرے جانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ یہ لوگ کسی کی صحیح بات کو مان نہیں سکتے۔ تاہم میں نے ایک رسالہ لکھا اور ایک وفد بھیجا۔ رسالہ میں میں نے بتایا کہ خلافت ترکی کا سوال پیش نہ کیا جاوے ، کیونکہ مسلمانوں کے بعض فرقے اس کو نہیں مانتے۔ سلطان ترکی کے سوال کو رکھا جاوے جس کے ساتھ ہر مسلمان کو ہمدردی ہے۔ اور میں نے یہ بھی لکھا کہ ترکوں اور اسلام کے متعلق جو غلط فہمیاں یورپ اور امریکہ میں پھیلائی گئی ہیں ان کو دور کیا جاوے۔ میں نے خود اس کام کے لئے اپنی طرف سے مبلغ دینے کا وعدہ کیا جو ان غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اس وقت اس کی طرف کسی نے خیال نہ کیا لیکن بعد میں جب شیعہ اور