انوارالعلوم (جلد 8) — Page 498
انوار العلوم جلد ۸ ۴۹۸ دورہ یورپ کا اب کیا حال ہے ۔ دوسرا جو آزاد ہو گیا تھا اس کو ایام گرفتاری میں اس قدر مارا گیا کہ وہ آزاد ہونے کے بعد ۴ ا دن کے اندر فوت ہو گیا۔ شروع جولائی میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو مولوی نعمت اللہ خان کی سنگساری بھی حکام نے بلایا اور بیان لیا کہ کیا وہ احمدی اوہ احمدی ہیں۔ انہوں نے حقیقت کو ظاہر کر دیا اور ان کا بیان لے کر چھوڑ دیا گیا۔ اس کے چند دن بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر علماء کی کونسل کے سامنے پیش کیا گیا جس نے 11۔ اگست کو ان سے بیان لیا۔ کہ وہ احمد کو کیا سمجھتا ہے۔ انہوں نے اپنے عقائد کا اظہار کیا جس پر علماء کی کونسل نے ان کو احمدی قرار دے کر مرتد قرار دیا اور موت کا فتوی دیا ۔ اس کے بعد ۱۶۔ اگست ۲۴ء کو ان کو علماء کی اپیل کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس نے پھر بیان لے کر ماتحت عدالت کے فیصلہ کی تائید کی اور فیصلہ کیا کہ نعمت اللہ کو ایک بڑے ہجوم کے سامنے سنگسار کیا جائے ۔ ۳۱۔ اگست کو پولیس نے ان کو ساتھ لے کر کابل کی تمام گلیوں میں پھرایا اور وہ ساتھ ساتھ اعلان کرتی جاتی تھی کہ اس شخص کو ارتداد کے جرم میں سنگسار کیا جائے گا لوگوں کو چاہئے کہ وہاں چلیں اور اس نیک کام میں شامل ہوں۔ اسی دن شام کے وقت کابل کی چھاؤنی کے ایک میدان میں ان کو کمر تک زمین میں گاڑا گیا اور پہلا پتھر کابل کے سب سے بڑے عالم نے مارا۔ اس کے بعد ان پر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش شروع ہو گئی یہاں تک کہ وہ پتھروں کے ڈھیر کے نیچے دب گئے۔ ان کی لاش ابھی تک ان پتھروں کے ڈھیر کے نیچے پڑی ہے اور اس پر پہرہ لگا ہوا ہے۔ اس کے بوڑھے باپ نے جو احمدی نہیں ہے گورنمنٹ سے درخواست کی کہ وہ اس کو لاش دے دیں تا کہ وہ اس کو دفن کر دے مگر گورنمنٹ نے اس کی لاش کو دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ مولوی نعمت اللہ کی استقامت کابل گورنمنٹ نے مولوی نعمت اللہ خان کو سنگسار کرنے سے پہلے بار بار احمدیت کے چھوڑ دینے کی صورت میں آزادی کا انعام پیش کیا مگر مولوی نعمت اللہ شہید نے ہر دفعہ اسے حقارت سے رو کر دیا اور ضمیر کی آزادی کو جسم کی آزادی پر ترجیح دی۔ جب ان کو سنگسار کرنے کے لئے گاڑا گیا تب پھر آخری دفعہ ان کو ارتداد کی تحریک کی گئی مگر انہوں نے جواب دیا کہ جس چیز کو میں حق جانتا ہوں اس کو زندگی کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا۔ جس وقت ان کو گلیوں میں پھرایا جا رہا تھا اور ان کی