انوارالعلوم (جلد 8) — Page 497
انوار العلوم جلد ۸ ۴۹۷ دورہ یورپ ان کو چھوڑا جاتا ہے اس لئے میں نے اپنے صیغہ دعوت و تبلیغ کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس کے متعلق افغان گورنمنٹ سے خط و کتابت کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایک چھی وزیر خارجہ افغانستان کو لکھی اور ایک جمال پاشا سے ترکی مشہور جرنل کو جو سیکرٹری دعوت و تبلیغ کے ذاتی طور پر واقف تھے اور اس وقت افغانستان میں تھے ان سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی اس امر کے متعلق افغانستان کی گورنمنٹ سے سفارش کریں۔ اس چٹھی کے جواب میں وزیر خارجہ افغانستان کی ایک چٹھی مئی ۱۹۲۱ء میں آئی جس میں لکھا تھا کہ احمدی اسی طرح اس ملک میں محفوظ ہیں جس طرح دوسرے وفادار لوگ۔ ان کو احمدیت کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ دی جاوے گی اور اگر کوئی احمدی ایسا ہے جسے مذہب کی وجہ سے تکلیف دی جاتی ہو تو اس کا نام اور پتہ لکھیں گورنمنٹ فوراً اس کی تکلیف کو دور کر دے گی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد خوست کے علاقہ میں بعض احمدیوں کو پھر تکلیف ہوئی تو احمد یہ جماعت شملہ کی لوکل شاخ نے سفیر کابل متعینہ ہندوستان کو اس طرف توجہ دلائی اور ان کی معرفت ایک درخواست گورنمنٹ کابل کو بھیجی جس کا جواب مؤرخہ ۲۴۔ مئی ۱۹۲۳ء کو سفیر کابل کی معرفت ان کو یہ ملا کہ احمدی امن کے ساتھ گورنمنٹ کے ماتحت رہ سکتے ہیں ان کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا باقی وفادار رعایا کی طرح ان کی حفاظت کی جائے گی۔ اس خط میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا یہ معاملہ ہز مجسٹی امیر کے سامنے ؛ امنے پیش کیا گیا تھا اور ان کے مشورہ سے جواب جواب لکھا گیا ہے ۔ شملہ کی لوکل احمدی انجمن کی درخواست میں احمد یہ عقائد کو بھی تفصیلاً ذکر کیا گیا تھا اور گورنمنٹ افغانستان نہیں کہہ سکتی کہ اس کو پہلے احمدی عقائد کا علم نہ تھا۔ کہ اس طرح متواتر یقین دلانے پر کابل اور اس کے گرد کے احمدی ظاہر ہو گئے مگر علاقوں کے لوگ پہلے کی طرح مخفی ہی رہے کیونکہ گورنمنٹ افغانستان کا تصرف علاقوں پر ایسا نہیں کہ اس کی مرضی پر پوری طرح عمل کیا جائے ۔ وہاں لوگ قانون اپنے ہی ہاتھ میں رکھتے ہیں اور بارہا حکام بھی لوگوں کے ساتھ مل کر کمزوروں پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ ہم خوش تھے کہ افغانستان میں ہمارے لئے امن ہو گیا ہے کہ ۱۹۲۳ء احمدیوں پر مصائب کے آخر میں اطلاع ملی کہ دو احمدیوں کو افغانستان کی گورنمنٹ نے قید کر لیا ہے جن میں سے ایک کا بیٹا بھی ساتھ قید کیا گیا ہے ۔ ان دو میں سے ایک تو دے دلا کر اپنے بیٹے سمیت چھٹ گیا لیکن دوسرا میری قادیان سے روانگی تک قید تھا اور مجھے معلوم نہیں کہ اس