انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 463

انوار العلوم جلد ۸ دورہ یورپ انگلستان کے متعلق رویا اور اس کا پورا ہونا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس بادشاہ نے جس کے قبضہ میں تمام عالم کی باگ ہے مجھے رویا میں بتایا تھا کہ میں انگلستان میں گیا ہوں اور ایک فاتح جرنیل کی طرح اس میں داخل ہوا ہوں۔ اور اس وقت میرا نام ولیم فاتح رکھا گیا۔ میں جب شام میں بیمار ہوا اور بیماری بڑھتی گئی تو مجھے سب سے زیادہ خوف یہ تھا کہ کہیں میری شامت اعمال کی وجہ سے ایسے سامان نہ پیدا ہو جاویں۔ کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کسی اور صورت میں بدل جائے اور میں انگلستان میں پہنچ ہی نہ سکوں۔ اور اس خوف کی وجہ یہ تھی کہ میں اس خواب کی بناء پر یقین رکھتا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح صرف میرے انگلستان جانے کے ساتھ وابستہ ہے۔ لیکن آخر اللہ تعالی کے فضل سے میں انگلستان پہنچ گیا ہوں اور اب میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اپنے وقت پر اس کا اعلان زمین پر بھی ہو جائے گا۔ دشمن ہنسے گا اور کہے گا یہ بے ثبوت دعوی تو ہر اک کر سکتا ہے مگر اس کو ہننے دو کیونکہ وہ اندھا ہے اور حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا۔ آتھم کے متعلق جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی اور وہ مصلحت الہی کے ماتحت اور رنگ میں پوری ہوئی تو سب ہندوستان میں اس پر تمسخر کیا گیا۔ اس وقت کے نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی اس کا ذکر ہوا اور انہوں نے بھی اس کے غلط ہونے کی تائید میں رائے دی۔ ان کے پیر خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ چاچڑاں والے اس وقت دربار میں موجود تھے۔ اس بات کو سن کر جوش میں آگئے اور فرمایا کہ جو یہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی وہ غلط کہتا ہے۔ آتھم مرچکا۔ مجھے وہ مردہ نظر آرہا ہے۔ دنیا کے کیڑوں کو وہ زندہ نظر آتا ہے۔ انگلستان کے فتح ہونے کی شرط پوری ہو گئی میں بھی کتابوں انگستان مفتح ہو چکا خدا کا وعدہ پورا ہو گیا۔ اس کی فتح کی شرط آسمان پر یہ مقرر تھی کہ میں انگلستان آؤں ، سو میں خدا کے فضل سے انگلستان پہنچ گیا ہوں۔ اب اس کارروائی کی ابتداء انشاء اللہ شروع ہو جائے گی۔ اور اپنے وقت پر دوسرے لوگ بھی انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ سچ ہے۔ نادان لوگ نہیں جانتے کہ بعض امور کا تعلق بعض خاص مخصوں کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے۔ اور انگلستان میں ترقی اسلام کا سوال خدا تعالیٰ کی قضاء میں میرے انگلستان آنے کے ساتھ متعلق تھا۔