انوارالعلوم (جلد 8) — Page 455
انوار العلوم جلد ۸ ۴۵۵ دورہ یورپ ہماری ہر حرکت خدا کے حکم کے ماتحت ہے نہیں کرتے بلکہ خدا کا حکم کے ماتحت ہے ہی ہم جو کچھ کرتے ہیں اپنی طرف سے کا حکم ہمیں چلاتا ہے ۔ ہماری ہر ایک حرکت اور ہماری ہر ایک کوشش اس کے خاص منشاء کے ماتحت ہے اور گویا ہماری مثال اس بانسری کی ہے جو ویسی ہی آواز نکالتی ہے جیسی آواز کہ اس کے پیچھے گانے والا نکالتا ہے ۔ ہم خدا کے منہ میں ایک بانسری ہیں جو اس کی آواز کو دنیا میں پہنچاتے ہیں اور اس لئے ہم کبھی مایوس نہیں ہوتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالی کی آواز کبھی نیچی نہیں ہوتی۔ نہ تکلیفیں ہمیں خائف کرتی ہیں اور نہ موت ہم کو ڈراتی ہے۔ جیسا کہ افغانستان میں آپ لوگوں نے سنا ہو گا کہ حکومت ہمارے آدمیوں کو سنگسار کرتی ہے اور رعایا ان کو قتل کرتی اور ان کے گھروں کو جلاتی ہے مگر باوجود اس کے کہ ۲۴ سال سے یہی سلوک ہم سے ہوتا چلا آ رہا ہے ہم نے اس ملک کو نہیں چھوڑا اور خدا تعالی کے فضل سے ہماری ترقی اس ملک میں روز بروز ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہمارا مشن غرض ہمارا مشن ایک محبت اور خیر خواہی کا مشن ہے اور ہماری ایک ہی غرض ہے کہ جس طرح ہم نے خدا تعالیٰ کو پالیا ہے ہمارے دوسرے بھائی بھی اس کو پالیں اور اس سے ڈوری کی زندگی بسر نہ کریں اور ہم اس ملک میں مسیح کی آمد ثانی کی منادی کرنے آئے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک اس کے قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں ۔ وہ دنیا کا نجات دہندہ ہے اور جب تک لوگ اس کے دامن کے نیچے نہ آئیں گے اور اپنی زندگی کو اس تعلیم کے مطابق نہ کریں گے جو اسلام نے بیان کی ہے اور جس کی صحیح تشریح کرنے کے لئے مسیح موعود کو بھیجا گیا ہے اس وقت تک موجودہ فسادات دور نہ ہوں گے اور جھگڑے اور لڑائیاں برابر دنیا کے امن کو برباد کرتے چلے جائیں گے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس سرچشمہ قدوسیت سے دور رہیں گے جس کا قرب حاصل کرنے کے لئے پیدا کئے گئے تھے ۔ ا اے بہنو اور بھائیو ! انسان کی پیدائش کی اگر کوئی غرض ہے تو انسان کی پیدا کی پیدائش کی غرض وہ خدا تعالٰی سے وصال ہے پھر کس طرح دل قلی پاسکتے ہیں جب تک وہ اس کا وصال حاصل نہ کریں۔ میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ وید کو پڑھنے والا جب وید کو پڑھتا ہے یا اوستا کو پڑھنے والا اوشتا کو پڑھتا ہے یا توریت کو پڑھنے والا تو ریت کو پڑھتا ہے یا انجیل کو پڑھنے والا انجیل کو پڑھتا ہے یا قرآن کو پڑھنے والا قرآن کو پڑھتا ہے اور ان کے