انوارالعلوم (جلد 8) — Page 454
انوار العلوم جلد ۸ سے ہیں جو خداتعالیٰ کی طرف سے مجھے ملی ہے۔ لدولد دورہ یورپ اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ مشنری جو میری طرف سے ان ممالک میں مخلصانہ کام کا نتیجہ کام کرتے ہیں یا کریں گے وہ بھی اسی روح سے کام کریں گے اور میں اس امر کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ جو کام محبت ، اخلاص اور استقلال سے کیا جائے وہ بے نتیجہ رہے۔ محبت محبت پیدا کرتی ہے اور ہماری گہری محبت جو اس ملک کے لوگوں سے ہے اور جو ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اپنے ملک سے ہزاروں کوس دور اپنے بال بچوں سے علیحدہ کسی دنیوی فائدہ کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیوی امیدوں کو قطع کر کے اس ملک میں کام کریں وہ ضرور ایک دن اس ملک کے لوگوں کے دلوں پر اثر کر کے رہے گی اگر ایسا نہ ہو تو یقینا یہ ہماری محبت کی کمی کے باعث سے ہو گایا اخلاص کے نقص کے باعث۔ شاید آپ لوگ حیران ہوں گے کہ وہ مشرق جس کی طرف مشرق میں کیا تبدیلی ہوئی؟ مغرب مشنری بھیج رہا تھا اور بالکل غیر متمدن تھا آج اس میں کیا تبدیلی ہو گئی کہ مغرب کی طرف مشنری بھیجنے لگا۔ میں آپ کی اس حیرت کا جواب وہی دے سکتا ہوں جو ایران کے دربار میں محمد رسول اے کے ایک صحابی نے دیا تھا جب اس سے اس قسم کا سوال کیا گیا تھا تو اس نے کہا کہ بیشک جو عیب ہماری طرف منسوب کئے جاتے ہیں ہم میں سب موجود تھے بلکہ ان سے بھی زیادہ اور بے شک ہم ایسے ہی کم ہمت تھے جیسا کہ آپ نے بیان کیا مگر خدا تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول مبعوث کر کے ہماری حالت کو بدل دیا اور ہماری ہمت کو بلند کر دیا ہے۔ اب ہم وہ نہیں جو پہلے تھے اور اب ہمیں وہ چیزیں تسلی نہیں دے سکتیں جو پہلے دیا کرتی تھیں۔ اے بہنو اور بھائیو ! ہماری بھی یہی حالت ہے آج سے ۳۴ سال پہلے اسلام کی ایسی ہی حالت تھی کہ اس کے بہترین محافظ اس کی طرف سے لجاجت کے ساتھ معذرت کیا کرتے تھے ۔ مگر ۳۴ سال گزرے کہ خدا تعالیٰ نے ایک رسول کو ہم میں مبعوث کیا۔ اس رسول کو جس کی مختلف ناموں سے پہلے انبیاء نے خبر دی تھی۔ کسی نے اس کا نام مسیح رکھا تھا، کسی نے مہدی ، کسی نے کرشنا اور کسی نے موسیو در بھی۔ اس نے اللہ تعالی کے حکم سے مردہ قوموں پر زندگی کا پانی چھڑ کا اور وہ خدا کی نازل کردہ روح سے زندہ ہو گئیں اور سینکڑوں سالوں کے قبرستان کو چھوڑ کر آبادیوں اور شہروں میں پھیل گئے تاکہ خدا کے جلال کے لئے شہادت ہوں اور اس کی لازوال طاقتوں پر دلالت کریں۔