انوارالعلوم (جلد 8) — Page 424
انوار العلوم جلد ۸ ۴۲۴ دورہ یورپ اپنے محبوب کے مزار پر عقیدت کے دو پھول چڑھانے اور اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں دعا کر دینے کے سوا اور کیا کر سکتا ہے۔ سو اس فرض کو ادا کرنے کے لئے میں وہاں گیا۔ مگر آہ! وہ زیارت میرے لئے کیسی افسردہ کن تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مُردے اس مٹی کی قبر میں نہیں ہوتے بلکہ ایک اور قبر میں رہتے ہیں۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس مٹی کی قبر سے بھی ان کو ایک تعلق رہتا ہے اور پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسانی دل اس قرب سے بھی جو اپنے پیارے کی قبر سے ہو ایک گہری لذت محسوس کرتا ہے۔ پس یہ جدائی میرے لئے ایک تلخ پیالہ تھا اور ایسا تلخ کہ اسکی تلخی کو میرے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ میری زندگی کی بہت بڑی خواہشات میں سے ہاں ان خواہشات میں میں سے جن کا خیال کر کے بھی میرے دل میں سرور پیدا ہو جاتا تھا ایک یہ خواہش تھی کہ جب میں مرجاؤں تو میرے بھائی جن کی محبت میں میں نے عمر بسر کی ہے اور جن کی خدمت میرا واحد شغل رہا ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عین قدموں کے نیچے میرے جسم کو دفن کردیں تاکہ اس مبارک وجود کے قرب کی برکت سے میرا مولا مجھ پر بھی رحم فرمادے۔ ہاں شاید اس قرب کی وجہ سے وہ عقیدت کیش احمدی جو جذبہ محبت سے لبریز دل کو لے کر اس مزار پر حاضر ہو میری قبر بھی اس کو زبان حال سے یہ کہے کہ اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی اور وہ کوئی کلمہ خیر میرے حق میں بھی کہہ دے جس سے میرے رب کا فضل جوش میں آکر میری کوتاہیوں پر سے چشم پوشی کرے اور مجھے بھی اپنے دامن رحمت میں چھپالے۔ ہر آه! اس کی غنا میرے دل کو کھائے جاتی ہے اور اس کی شان احدیت میرے جسم کے ذرہ پر لرزہ طاری کر دیتی ہے۔ پس میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ جسمانی قرب روحانی قرب کا موجب بن جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل تو سب ہی کچھ کر سکتا ہے۔ مگر اپنی شامت اعمال اور صحت کی کمزوری دل کو شکار اوہام بنا دیتے ہیں۔ پس میری جدائی حسرت کی جدائی تھی کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ میری صحت جو پہلے ہی کمزور تھی ، پچھلے دنوں کے کام کی وجہ سے بالکل ٹوٹ گئی ہے۔ میرے اندر اب وہ طاقت نہیں جو بیماریوں کا مقابلہ کر سکے۔ وہ ہمت نہیں جو مرض کی تکلیف سے مستغنی کردے۔ ادھر ایک تکلیف دہ سفر در پیش تھا جو سفر بھی کام ہی کام کا پیش خیمہ تھا اور ان تمام باتوں کو دیکھ کر دل ڈرتا تھا اور کہتا تھا کہ شاید کہ یہ زیارت آخری ہو۔ شاید وہ امید حسرت میں تبدیل ہونے والی ہو۔ سمندر پار کے مردوں کو کون لاسکتا ہے ۔ ان کی قبر یا سمندر کی تہ اور مچھلیوں کا پیٹ ہے یا