انوارالعلوم (جلد 8) — Page 423
انوار العلوم جلد ۸ ۲۳ دورہ یورپ ثانی کا کام لمبا ہو گیا اور میرے لئے آرام کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔ مجھے ان دنوں میں بالکل معلوم نہ ہوتا تھا کہ دن کب ہوتا ہے اور رات کب، کیونکہ میرے لئے یہ لئے یہ دونوں چیزیں برابر تھیں اور اس وجہ سے مجھے سفر کے لئے پروگرام بنانے کا بھی کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔ نظر ثانی اور ترجمہ اور اس کی اصلاح کا کام جس میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب مولوی شیر علی صاحب اور عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب نے رات اور دن کو ایک کردیا- فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ ، جولائی کو جاکر ختم ہوا۔ دوسرا مضمون لکھنے کی تجویز اور اس عرصہ میں یہ فیصلہ ہوا کہ جو مضمون لکھا گیا ہے وہ اس طرز کا ہے کہ اس کا کوئی حصہ پڑھ کر سنانا مناسب نہیں اور سارا مضمون کسی صورت میں بھی پڑھا نہیں جاسکتا۔ اس لئے ایک نیا مضمون لکھا جائے جو مختصر ہو اور پہلے مضمون کو بطور کتاب شائع کر دیا جائے۔ اس فیصلہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ دو تاریخ کو فارغ ہوتے ہی مجھے نئے مضمون کی تصنیف میں مشغول ہونا پڑا۔ دو سے نو (۹) جولائی تک یہ مضمون لکھا گیا۔ اس کی نظر ثانی ہوئی اور اس کا ترجمہ ہوا اور اس کی صحت ہوئی۔ یہ مضمون بھی سو کالم کا تھا اور اس سے دوست اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان سات دنوں میں ہمیں ہرگز ایک منٹ کی بھی فرصت نہیں مل سکتی تھی۔ نو اور دس کی درمیانی رات کے گیارہ بجے یہ مضمون ختم ہوا اور ۱۲ تاریخ کو ہم نے دو دن جاتا تھا۔ پس دس اور گیارہ دو تاریخیں تھیں جو مجھے فراغت کی ملیں۔ ان تاریخوں میں بھی مجھے کسی سکیم پر غور کرنے یا گھر کے کاموں کے لئے فرصت نہیں مل سکتی تھی۔ اپنے بعد قادیان میں انتظام کا فیصلہ کرنا لائبریری میں سے بعض کتب کا نکالنا جو سفر کے لئے ضروری تھیں، دوسرے لوگوں کی کتب کو واپس کرنا اس کام پر یہ دو دن خرچ ہو گئے۔ مزار مسیح موعود اور اور تڑپادینے والے خیالات جس دن صبح کے وقت چلنا تھا اس دن رات کے ایک بجے میں اپنے بعد کام کے چلانے کے متعلق ہدایات لکھنے سے فارغ ہوا۔ اور صبح عزیزم عبد السلام ولد حضرت خلیفہ اول کو جو بیمار تھے دیکھ کر اس آخری خوشی کو پورا کرنے چلا گیا جو اس سفر سے پہلے میں قادیان میں حاصل کرنی چاہتا تھا۔ یعنی أَقَائِی وَ سَيِّدِى وَرَاحَتِي وَ سُرُورِي وَحَبِيبِي وَمُرَادِى حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار مبارک پر دعا کرنے کے لئے۔ ایک بے بس عاشق