انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 415

انوار العلوم جلد ۸ ۴۱۵ دورہ یورپ اپنے حصہ کے مریضوں کی صحت کے لئے دعا کریں۔ آپ کا دعویٰ تھا کہ اگر یہ طریق فیصلہ اختیار کیا جائے تو آپ کو اپنے مخالف پر یقینا کھلی کھلی ایسی فتح دی جائے گی کہ دنیا اس اقرار کے لئے مجبور ہو جائے گی کہ آپ کے ساتھ خدا کی نصرت کا ہاتھ تھا۔" لیکن یہ سوال ہو سکتا ہے کہ مسیح موعود تو وفات پاچکے ہیں اب اس طریق کو استعمال کر کے آپ کے دعاوی کے متعلق فیصلہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں میں یہ مزید بتائے دیتا ہوں کہ نبی ایک نمائش کے لئے نہیں بھیجا جاتا وہ تمام دنیا کے لئے رحمت ہوتا ہے اور نہ صرف خوشی کی خبر کا بلکہ فیوض و برکات کالانے والا ہوتا ہے۔ آپ کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے اپنے بعد ایک ایسی جماعت چھوڑی جس کی معرفت خدا اب بھی اپنے نشان ظاہر کرتا ہے۔ پس اگر ایک ایسی قوم جس کے حق کو قبول کرنے سے حق کی مزید اشاعت ہو سکتی ہو نشان دیکھنا چاہتی ہے تو گو مسیح موعود وفات پاچکے ہیں مجھے کامل یقین ہے کہ خدا آپ کے پیروؤں کے ہاتھوں پر ایسا نشان دکھا دے گا کیونکہ وہ اپنے چاکروں سے شفقت کرنے والا ہے اور ہمیشہ ان کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جانا پسند کرتا ہے۔ احمدیت کے ان اصلالوں کی اس ضروری کیفیت کے بیان کر دینے کے بعد میں ان کو جو موجود ہیں اور ان کی معرفت ان تمام کو جو مشرق اور مغرب میں رہتے ہیں یہ پیغام پہنچا دینا چاہتا ہوں بہنو اور بھائیو! خدا کی روشنی تمہارے لئے چمک اٹھی ہے اور وہ جس کو دنیا بوجہ مرور زمانہ ایک عجیب فسانہ خیال کرنے لگی تھی تمہاری عین آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو گیا ہے۔ خدا کا جلال ایک نبی کے ذریعے تم پر ظاہر کیا گیا ہے ہاں ایسا نبی جس کی بعثت کی خبر نوح سے لے کر محمد ال تک تمام انبیاء نے پہلے سے دی تھی خدا نے آج تمہارے لئے پھر یہ امر ثابت کر دیا کہ میں صرف انکا خدا نہیں جو مر چکے ہیں بلکہ ان کا بھی خدا ہوں جو زندہ ہیں۔ اور نہ صرف ان کا خدا ہوں جو پہلے گزر چکے ہیں بلکہ ان کا بھی خدا ہوں جو آئندہ آئیں گے۔ پس تم اس روشنی کو قبول کرو اور اپنے دلوں کو اس سے منور کر لو۔ بہنو اور بھائیو! یہ زندگی عارضی ہے لیکن یہ خیال کرنا غلطی ہے کہ اس کے بعد فنا ہے۔ فنا تو کوئی چیز ہی نہیں۔ روح کو فنا کے لئے نہیں بلکہ ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اپنی پیدائش کے لمحے سے لے کر انسان ایک نہ ختم ہونے والے رستے پر چلنا شروع کر دیتا ہے اور سوائے اس کے کہ موت اس کی رفتار کی تیزی کا ذریعہ ہو اور کچھ نہیں۔ یہ کیا بات ہے کہ تم جو چھوٹے چھوٹے مقابلوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی لگا تار کوشش میں لگے رہتے ہو اس بڑے مقابلہ کو نظر انداز