انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 390

انوار العلوم جلد ۸ ۳۹۰ دورہ یورپ کیا ہے احمد علیہ السلام کے دعاوی میں سے ایک دعوی یہ تھا کہ آپ مسیح موعود ہیں اس بات کو ذہن میں رکھ کر ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ احمدیت خود اسلام ہی ہے نہ کہ اس کی شاخ مسیح موعود کسی نئے قانون یا شریعت کے حامل نہ تھے بلکہ صرف اسلام کی حقیقی تعلیم کے شارح تھے جس طرح یہودی مذہب کی تعلیم اس لئے متروک ہو گئی تھی کہ اس کو بدعات اور تحریفات سے پُر کر کے موسیٰ کی اصل تعلیم کہا جاتا تھا اسی طرح مسیح موعود کے زمانے میں اس تعلیم کو جسے اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اصل اسلامی تعلیم سے کوئی مماثلت نہ تھی۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسیح موعود کے مسیح موعود کے دعوی کی اصلیت دعوے کی اصل حقیقت کو بیان کر دیا جائے چونکہ عیسائی اور مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام ابھی تک آسمانوں میں کہیں زندہ بیٹھے ہیں اور وہ اس دنیا میں ایک مقررہ وقت پر واپس تشریف لاویں گے اس لئے جب انہیں مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خبر دی جاتی ہے تو وہ یہ گمان کیا کرتے ہیں کہ احمدی مسئلہ تاریخ کے قائل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح آپ میں حلول کر آئی ہے۔ دعوی موعود مسیح سے آپ کی صرف یہ مراد تھی کہ آپ عیسیٰ علیہ السلام کی صفت (خصلت) و قوت کے حامل ہیں۔ اس نزول ثانی کے سوال کو خود عینی نے حل کر دیا ہے یہودیوں کا یہ اعتقاد تھا کہ مسیح کے آنے سے پہلے الیاس (ایلیا) کا دوبارہ ظہور ہو گا اور یہ ملا کی نبی کی کتاب میں مذکور ہو چکا تھا کہ یہ (ایلیا) الیاس کا نزول ثانی مسیح کی آمد کی علامت ہے۔ لکھا تھا :- ” دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا" مگر جیسا کہ ظہور پذیر ہوا عیسی علیہ السلام مبعوث ہو گئے لیکن کوئی الیاس آسمانوں سے نہ اترا اعلیہ السلام کو اس کے متعلق پوچھا گیا تو آ۔ پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ ۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کیونکہ سب نبیوں اور توریت نے یوحنا کے وقت تک آگے کی خبر دی اور الیاس جو آنے والا تھا یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو"۔ شم عیسی علیہ السلام نے اس طرح تشریح کی کہ جب پیشگوئیاں کسی نبی کا آسمان سے دوبارہ نزول