انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 343

انوار العلوم جلد ۸ ٣٣ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میدان میں آیا اور شہر کے لوگ بھی اکٹھے ہوئے اور سنگسار کرنے کی تجویز ہوئی۔ آخری وقت میں امیر پھر ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ صاحبزادہ صاحب ! اب بھی موقع ہے آپ اپنے عقیدہ سے توبہ کرلیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ تو بہ کس بات سے؟ میں نے حق کو پالیا ہے اور میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ یاد رکھو کہ میرے مرنے کے بعد پہلی جمعرات کو قیامت آجائے گی اور میں جی اٹھوں گا۔ جب امیر مایوس ہو گیا تو اس نے واپس آکر سید الشہداء پر پتھر پھینکا اور چاروں طرف سے لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے مگر صاحبزادہ صاحب استقلال سے کھڑے رہے یہاں تک کہ پتھروں کی ضربوں سے ان کا سر پاش پاش ہو گیا اور گردن جھک گئی ۔ ظالم برابر پتھر مارتے چلے گئے حتی کہ سر تک پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر جمع ہو گیا اور اس صادق مومن کی پاکیزہ روح اپنے پیدا کرنے والے سے جاملی۔ تب لوگ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے مگر ان کی لاش پر پہرہ مقرر کر دیا گیا تا کہ کوئی شخص ان کو دفن نہ کردے ۔ مگر خدا کا بدلہ نزدیک تھا وہ قیامت جس کی انہوں نے خبر دی تھی اچانک آگئی اور پہلی جمعرات کو غیر معمولی طور پر خلاف توقع اور خلاف پچھلے تجربہ کے کابل میں سخت ہیضہ پھوٹا اور سخت موت پڑی جس سے شاہی خاندان میں سے بھی بعض جانوں کا نقصان ہوا۔ ان واقعات کو ایک بے تعلق انگریز انجینئر مسٹر مارٹن (FRANK A۔ MARTIN) دی انجینئر انچیف افغانستان نے اپنی کتاب ”انڈر دی ابسولیوٹ امیر ۳۰۳ سے بیان کیا ہے جو پڑھنے کے قابل ہے۔ گو بوجہ سلسلہ سے ناواقفیت کے بعض باتیں انہوں نے غلط لکھ دی ہیں مگر پھر بھی ان کی تحریر نہایت مؤثر ہے خصوصاً اس صورت میں کہ ایک بے تعلق آدمی کی لکھی ہوئی ہے۔ میں نہایت سادگی UNDER THE ABSOLUTE AMIR( صاحبزادہ عبداللطیف صاحب سے پہلے ان کے شاگرد مولوی عبد الرحمٰن صاحب کو گلا گھونٹ کر مار دیا گیا تھا ان کا جرم بھی یہی تھا کہ وہ سلسلہ احمدیہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان دو قتلوں کے علاوہ جو حکومت کی طرف سے ہوئے ہیں لوگوں نے کئی احمدی قتل کئے ہیں۔ چنانچہ پچھلے ماہ میں دو احمدیوں کو لوگوں نے مار دیا ہے۔ علاوہ قتل کے دوسری تکالیف تو ہمیشہ ہی احمدیوں کو پہنچائی جاتی ہیں جنہیں وہ نہایت بہادری سے برداشت کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی سال کے دوران میں خوست کے علاقہ میں جو بغاوت ہوئی ہے اس میں جب باغیوں نے ہنر میجسٹی دی امیر کی افواج کے خلاف کچھ زور چلتا ہوا نہ دیکھا تو احمدیوں کے دو گاؤں جلا دیئے اور بہانہ یہ کیا کہ یہ لوگ امیر کو