انوارالعلوم (جلد 8) — Page 342
انوار العلوم جلد ۸ ۳۴۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام رز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذہبی دیوانگی پیدا نہیں کی اور نہ مذہب کو اپنی ذات کی محبت کے گرد لپیٹ کر لوگوں کی توجہ کو ایک ہی نقطہ پر جمع کر دیا ہے جیسا کہ ان لوگوں کا قاعدہ ہے جو باقی نیک خصلتوں کو نظر انداز کر کے صرف قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ آپ نے ہر اک چیز کو اس کے مرتبہ کے مطابق پیش کیا ہے اور انسانی عقل کو ہر ممکن طریق سے زندہ رکھنے کی بلکہ ترقی دینے کی کوشش کی ہے ۔ مگر باوجود اس کے آپ کی جماعت میں یہ مادہ نظر آتا ہے کہ وہ اپنی جان اور اپنا مال خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ان کی مثال صحابہ رسول کریم ال کی ہے جن کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے۔ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مِّنْ يَنْتَظِرُ ٣٠١۔ ان میں سے بعض نے اپنے ارادہ کو پورا کر دیا اور خدا کی راہ میں جان دے دی دی ہے اور بعض اس وقت کے منتظر ہیں۔ چنانچہ افغانستان میں دو موقعے احمدیوں کو جان قربان کرنے کے ملے ہیں جن میں انہوں نے نہایت ثبات سے جانیں دی ہیں ۔ دو موقعوں سے میری مراد یہ ہے کہ جن دو موقعوں پر ان کو کہا گیا ہے کہ تم تو بہ کر لو مگر انہوں نے تو بہ نہیں کی ورنہ احمدیت کی وجہ سے مارے تو وہاں کئی آدمی گئے ہیں جن کی تعد ادوس سے کم نہ ہوگی۔ ان آدمیوں میں سے زیادہ اہم شہادت سید عبد اللطیف صاحب کی ہے ۔ آپ افغانستان کے بہت بڑے عالم تھے اور آپ کو ایسا درجہ حام حاصل تھا کہ امیر حبیب اللہ خان ۳۰۴، صاحب کی تاجپوشی کی رسم آپ ہی نے ادا کی تھی۔ آپ کو جب سلسلہ احمدیہ کی خبر ملی تو آپ نے کتب سلسلہ منگوا کر پڑھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آئے ۔ اس کے بعد ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور حج کی نیت سے افغانستان کے امیر سے اجازت لی اور راستہ میں قادیان بھی ٹھرنے کا ارادہ کیا۔ قادیان آکر ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ انہوں نے کہا کہ مجھے اب آگے نہیں جانا چاہئے بلکہ یہاں رہ کر دین کی معلومات بڑھانی چاہئیں۔ چنانچہ وہ یہیں گھر گئے اور کئی مہینے ٹھہر کر واپس وطن گئے اور جاتی دفعہ کہہ گئے کہ میرا ملک مجھے بلاتا ہے تا اپنے خون سے اس کی اصلاح کا راستہ کھولوں اور میں اپنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پڑی دیکھتا ہوں۔ ملک میں جاتے ہی امیر نے طلب کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ احمدی ہو گئے ہیں ؟ انہوں نے اقرار کیا۔ اس پر بہت بڑی بحث کے بعد علماء کے فتوئی کے ماتحت ان کے قتل کا فیصلہ کیا گیا۔ بار بار ا میر نے بلا کر ان کو توبہ کی تحریک کی مگر انہوں نے انکار کیا اور آخران کو زمین میں گڑھا کھود کر آدھا دفن کیا گیا اور امیر خود مع لشکر