انوارالعلوم (جلد 8) — Page 339
انوار العلوم جلد ۸ ۳۳۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام حاصل کرے گا تو نئی صفات کے سمجھنے کی بھی اس کو توفیق ملے گی اور خدا تعالیٰ چونکہ غیر محدود ہے انسان اس حصول علم اور معرفت میں ترقی کرتا رہے گا اور نئی نئی صفات اس پر ظاہر ہونگی اور وہ ان کو اپنے نفس میں پیدا کرنے کے لئے کوشش کرے گا پس ہر نیا علم ایک نیا دور عمل جاری کرے گا اور اسی طرح ہوتا چلا جائے گا اور روز بروز انسان کا یہ عرفان کہ خدا تعالی غیر محدود ہے زیادہ ہوتا چلا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ جنت بھی دارالعمل ہے جس طرح یہ دنیا دار العمل ہے بلکہ اس سے بڑھ کر۔ صرف فرق یہ ہے کہ اس دنیا میں تو انسان کو نیچے گر جانے کا اور فیل ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے وہاں انسان اس خطرہ سے محفوظ ہو جائے گا گویا یہ دنیا روحانی علوم میں ایک مدرسہ کی نسبت رکھتی ہے جس میں فیل اور پاس دونوں ہی صورتیں ہیں لیکن وہ جہان ایسا ہے جیسے کوئی شخص سب امتحان پاس کر کے تحقیقات علمی میں لگ جاتا ہے محنت تو یہ شخص بھی کرتا ہے بلکہ بعض دفعہ طالب علم سے زیادہ لیکن اس میں اور طالب علم میں یہ فرق ہے کہ اسے فیل ہونے کا دھڑکا تھا لیکن اسے وہ دھڑ کا نہیں۔ مذکورہ بالا بیان سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اسلام کے نزدیک جنت کی اصل خوشی اور اصل نعمت ترقی روحانی ہی ہے نہ کہ وہ سفلی لذات جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ سب سے بڑی نعمت جنت میں خدا کی رضا ہو گی اور سب سے بڑی خوشی رسول کریم ال فرماتے ہیں رویت الہی کی ہوگی ۔ ۳۰۰ ۔ ﷺ حاصل کلام یہ کہ ایک مسلمان کی جنت صحیح علم کے حصول اور پھر اس کے مطابق صحیح عمل کرنے اور ان دونوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا قرب اور اتصال حاصل کرنے کا نام ہے اور اس سے بڑا اور کوئی مقصد پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اب میں ان تمام سوالوں کے متعلق احمدیت کی تعلیم بیان کر چکا ہوں۔ جن کے متعلق صحیح تعلیم بیان کرنا مذاہب کا کام ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ غور اور فکر سے میری باتوں کی طرف متوجہ ہوں گے وہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اس سے بہتر اور کوئی تعلیم نہیں ہو سکتی اور خصوصاً اس کی یہ خوبی کہ یہ خدا تک عملاً انسان کو پہنچا دیتی ہے سب باتوں اور بحثوں کا خاتمہ کر دیتی ہے ۔ انسان دنیا میں کیوں پیدا کیا گیا؟ اسی لئے کہ وہ خدا سے ملے ۔ پس وہی مذہب ہمارے کام کا ہے جو خدا سے ہمیں ملاتا ہے نہ کہ وہ جو صرف باتوں سے ہمیں خوش کرنا چاہتا ہے۔