انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 308

انوار العلوم جلد ۸ ۳۰۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام روپیہ لے سکتے ہیں۔ چھوٹے سرمایہ دار کو ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں منافع کی زیادتی کی وجہ سے دولت ایک آبشار کی طرح چند لوگوں کے گھروں میں جمع ہو رہی ہے۔ اسلام نے ان نقائص کے مٹانے کے لئے تین ہی ، ہی علاج کئے ہیں۔ اول ورثہ کے تقسیم کئے جانے کا حکم دیا ہے کسی شخص کا اختیار نہیں کہ اپنی جائداد کسی ایک شخص کو دے جاوے تاکہ ایک طبقہ کے پاس دولت محفوظ رہے۔ اسلام حکم دیتا ہے کہ مطابق شریعت تمام اولاد ماں باپ بیوی یا خاوند یا بھائیوں بہنوں میں ہر مرنے والے کی جائداد تقسیم ہو جانی چاہئے۔ اس تقسیم کے بدلنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ اس حکم کی وجہ سے ایک اسلامی شریعت پر چلنے والے ملک میں ایک شخص جو بڑی ترقی کر جاتا ہے اس کی اولاد محض اس کی ترقی کے سہارے پر نہیں بیٹھ سکے گی بلکہ اس کی جائداد چونکہ چھ سات جگہ تقسیم ہو جائے گی مکان بھی اور زمینیں بھی اور مال بھی اسلئے سب کو پھر نئے سرے سے محنت کرنی پڑے گی اور چونکہ زمینیں تقسیم ہوتی چلی جائیں گی دو تین نسلوں میں وہ اتنے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو جائیں گی کہ ایک معمولی مزدور بھی ان میں سے ایک حصہ خریدنے پر قادر ہو سکے گا اور اپنی آئندہ ترقی کی بنیاد اس پر رکھ سکے گا غرض تقسیم جائداد کے سبب سے کوئی نسلی دیوار نہیں کھڑی ہو سکے گی۔ دوسری روک غرباء کے راستہ میں سود ہے سود کے ذریعہ سے وہ تاجر جو پہلے سے ساکھ بٹھا چکے ہیں جس قدر روپیہ کی ان کو ضرورت ہو آسانی سے بنکوں سے لے سکتے ہیں۔ اگر ان کو اس طرح روپیہ نہ مل سکتا تو وہ یا تو دوسرے لوگوں کو اپنی تجارت میں شامل کرنے پر مجبور ہوتے یا اپنی تجارت کو اس پیمانہ پر نہ بڑھا سکتے کہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے روک بن سکیں اور دوسرے لو رسٹس اور ایسوسی ایشنز قائ ایشنز قائم کر کے دو نتیجہ یہ ہو تا کہ مال ملک میں مناسب تناسب سے تقسیم رہتا اور خاص خاص لوگوں کے پاس حد سے زیادہ مال جمع نہ ہو سکتا۔ جو ملک کی اخلاقی ترقی کے لئے مہلک اور غرباء اور درمیانی طبقہ کے لوگوں کے لئے تباہی کا موجب ہوتا ہے۔ لوگوں کے لئے ترقی کا دروازہ بالکل روک دیں۔ تیسری صورت جو نفع کی زیادتی کی تھی اس کا اسلام نے ایک تو اس ٹیکس کے ذریعہ سے انتظام کیا ہے جو غرباء کی خاطر امراء سے لیا جاتا ہے اس ٹیکس کے ذریعہ سے اتنی رقم امراء سے لے لی جاتی ہے کہ ان کے پاس اس قدر روپیہ اکٹھا ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے زور سے ملک کا سارا روپیہ جمع کرنے کی کوشش کریں کیونکہ جس قدر روپیہ ان کے پاس ہو گا اس میں سے ہر