انوارالعلوم (جلد 8) — Page 307
انوار العلوم جلد ۸ ۳۰۷ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کہ یہ مال جو امراء سے وصول کئے جائیں ان سے غرباء کو ترقی کی طرف لے جایا جائے۔ زکوۃ کے حکم سے اسلام نے ان تمام حقوق کو ادا کر دیا ہے جو امراء کے مال میں غرباء کی طرف سے شامل تھے اور اس طرح سرمایہ دار اور مزدور میں صلح کرادی ہے کیونکہ علاوہ مناسب مزدوری کے جو کارکن حاصل کرتے ہیں اسلام ان کے اور ان کے غریب بھائیوں کی خاطر امراء سے اڑھائی فیصد ٹیکسی گل جائداد پر وصول کرتا ہے۔ گو اس ٹیکس کی وصولی سے مالی پہلو تو حل ہو جاتا ہے مگر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ امراء نے غرباء یا درمیانی درجہ کے لوگوں کے لئے ترقی کا کوئی راستہ کھلا چھوڑا ہی نہیں پھر وہ ترقی کس طرح کریں ؟ اس سوال کا جواب یہ دیتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کا حق ہے کہ ان کے لئے ترقی کا راستہ کھلا رکھا جائے وہ اس امر کو نا پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص دوسروں کا راستہ روک کر کھڑا ہو جائے ایک دوڑ جو کئی آدمیوں میں ہو رہی ہو اس میں ہر ایک شخص یکساں ہمدردی کے ساتھ ہر اک دوڑنے والے کو دیکھے گا مگر اس کے ساتھ کسی کو ہمدردی نہیں ہو سکتی جو آگے ہو کر اس طرح کھڑا ہو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا آگے نہ بڑھ سکے۔ اگر اس کو جائز رکھا جائے تو مقابلہ وہیں بند ہو جائے گا اور چند لوگ جو پہلے آگے نکل چکے ہیں سب ترقیات اپنے ہی ہاتھ میں رکھیں گے اور کسی دوسرے کو حصہ نہ دیں گے۔ اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور اس نے اس نقص کی جڑ کو کاٹ کر ترقی کا راستہ سب کے لئے کھول دیا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو اس نقص کے باعث کہ بعض ملکوں میں چند گھرانوں میں تمام ترقیات محدود ہو گئی ہیں تین ہیں ۔ (1) جائداد کا تقسیم نہ ہونا بلکہ صرف بڑے لڑکے کے قبضہ میں رہنا اور مال کے متعلق باپ کو اختیار ہونا کہ جس قدر چاہے جس کو چاہے دے دے۔ (۲) سود کی اجازت جس کی وجہ سے ایک ہی شخص یا چند افراد بغیر محنت کے جس قدر چاہیں اپنے کام کو وسعت دے سکتے ہیں۔ (۳) منافع کی زیادتی۔ ان تین نقائص کی وجہ سے بہت سے ممالک میں لوگوں کے لئے ترقیات کے راستے بالکل محدود ہو گئے ہیں۔ جائدادیں جن لوگوں کے قبضہ میں ہیں اور اس وجہ سے غرباء کو جائدادیں پیدا جہ سے غرباء کو جا کہ میں پیدا کرنے کا موقع نہیں۔ سود کی وجہ سے جو لوگ پہلے ہی اپنی ساکھ بٹھا چکے ہیں وہ جس قدر چاہیں