انوارالعلوم (جلد 8) — Page 291
انوار العلوم جلد ۸ ۲۹۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام بارھویں یہ کہ کلام ترتیب سے کریں یکدم باتیں شروع نہ کریں۔ تیرھویں یہ کہ جب کلام شروع کریں صدر کو مخاطب کریں ۔ یہ مختصر نقشه ان تمدنی احکام کا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے یا آپ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہم نے اسلامی تعلیم سے اخذ کیا ہے پس یہ سچا اسلامی تمدنی نقشہ ہے اور ساتھ ہی خالص احمدی نقشہ ہے۔ اہلی زندگی کے متعلق اسلامی تمدنی احکام بیان کر چکنے کے بعد اب میں ان احکام کو بیان کرتا ہوں جو اسلام نے حکومت اور رعایا کے تعلقات یا امراء اور غرباء کے تعلقات کے متعلق بیان فرمائے ہیں۔ تمدن کی دوسری قسم یعنی حکومت اور رعایا امیر اور غریب کے متعلق احکام جب میں یہ کہتا ہوں کہ امیر اور غریب تو میری مراد اس سے وہ فاقہ زدہ لوگ نہیں ہیں جو لوگوں کے صدقہ اور احسان پر پلتے ہیں بلکہ اس سے میری مراد وہ لوگ ہیں جو اس قدر سرمایہ نہیں رکھتے کہ بنی نوع انسان کے کسی حصہ کو اپنا ما تحت بنا کر رکھ سکیں اور میں نے امیر اور غریب کے الفاظ جان بوجھ کر مچنے ہیں اس لئے کہ جو مضمون میں آگے بیان کرنے لگا ہوں وہ انہی ناموں سے اچھی طرح بیان ہو سکتا ہے ۔ اس ہیڈنگ کے ماتحت سب سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ اسلام حکومت کی کیا تعریف کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک حکومت اس بنیابتی فرد کا نام ہے جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔ اس مفہوم کے سوا اسلام میں اور کوئی مفہوم اسلامی نقطہ نگاہ کے مطابق نہیں اور سوائے نیابتی حکومت کے اسلام اور کسی حکومت کا قائل نہیں۔ قرآن کریم نے اس مفہوم کو ایک نہایت ہی عجیب لفظ کے ساتھ ادا کیا ہے اور وہ لفظ امانت ہے۔ قرآن کریم حکومت کو امانت کہتا ہے یعنی وہ اختیار لوگوں نے کسی شخص کو دیا ہو نہ وہ جو اس نے خود پیدا کیا ہو یا بطور ورثہ کے اس کو مل گیا ہو۔ یہ ایک لفظ ہی اسلامی حکومت کی تمام کیفیات کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ قرآن کریم میں حکومت کا ذکر بادشاہ سے شروع کر کے رعایا کی طرف نہیں چلایا گیا بلکہ ملک