انوارالعلوم (جلد 8) — Page 290
انوا را اعلوم جلد ۸ ۲۹۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہوں گے اور ایسی جگہوں میں کثرتِ انفاس سے بو پیدا ہو جاتی ہے اس کو ہم اور نہ بڑھائیں وہ کوئی بد بودار چیز کھا کر جس سے منہ میں سے بو آنے لگتی ہو جیسے پیاز لہسن وغیرہ یا حقہ اور سگریٹ وغیرہ کی قسم کی چیزیں استعمال کر کے نہ جائیں تا باقی ساتھیوں کو تکلیف نہ ہو ۔ دوسرے ایسے موقع پر خوب صفائی کر کے اور نہا دھو کر اور اگر ہو سکے تو خوشبو لگا کر جانا چاہئے تاکہ طبیعت میں نشاط پیدا ہو اور ہوا صاف ہو۔ تیسرے مجلس کا حلقہ بڑا بنا کر بیٹھیں تا ایک دوسرے کے تنفس سے لوگ تکلیف نہ اٹھائیں۔ چوتھے یہ کہ جس کو کوئی متعدی مرض ہو وہ ان جگہوں میں نہ جائے جن میں لوگ جمع ہوتے ہیں کیونکہ اس طرح ان لوگوں کو اس مرض کے لگنے کا خطرہ ہوتا ہے اس حکم کی اس قدر تاکید ہے کہ حضرت عمر نے ایک کوڑھی کو حج بیت اللہ سے روک دیا اور کہا کہ اپنے گھر میں زیادہ بیٹھا کرو اختلاط کی جگہوں میں نہ جایا کرو تا کہ لوگوں کو بیماری نہ لگے ۔ پانچویں جب کوئی شخص کلام کرنے کے لئے کھڑا ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ اس کی طرف منہ کر کے توجہ سے کلام سنیں اور اس کی بات کو قطع نہ کریں اور دورانِ تقریر میں شور نہ کریں خواہ وہ کس قدر ہی طبیعت کے برخلاف کیوں نہ ہو۔ چھٹے یہ کہ جب بولیں آہستگی اور وقار سے بولیں ۔ ایسی طرز پر کلام نہ کریں کہ لوگ سمجھ ہی نہ سکیں۔ ساتویں یہ کہ جب مجلس میں کوئی اور شخص آجائے تو اس کے لئے جگہ بنا دیں۔ آٹھویں یہ کہ اگر کسی شخص کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ اجازت لے کر جائے بلا اجازت صد روہاں سے باہر نہ نکلے۔ نویں یہ کہ جب کوئی شخص عارضی طور پر جائے اور پھر اس کے واپس آنے کا ارادہ ہو تو اس کی جگہ پر کوئی اور نہ بیٹھے ۔ دسویں یہ یہ کہ وہ شخص جو آس پاس بیٹھے ہوں اور یہ معلوم ہو کہ یہ کسی غرض سے پاس بیٹھے ہیں تو خواہ ان کے درمیان کوئی جگہ خالی بھی ہو وہاں نہ بیٹھے ۔ گیارھویں یہ کہ جس مجلس میں تین آدمی ہوں وہ ایسی حالت میں آپس میں کلام نہ کریں کہ تیسرے آدمی کے دل میں وسوسہ پیدا ہو کہ یہ شاید میرے متعلق بات کرتے ہیں۔