انوارالعلوم (جلد 8) — Page 282
انوار العلوم جلد ۸ ۲۸۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تکلیف دینے والی ہوں نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مسلمان بازاروں اور گلیوں میں وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔ رسول کریم اللہ نے کسی شخص کو دیکھا کہ ایک جوتی پہنے ہوئے چل رہا ہے تو آپ نے اسے منع فرمایا اور فرمایا کہ یا آدمی دونوں جو تیاں پہنے یا ایک بھی نہ پہنے۔ ۲۲۱ مسلم شہریوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ راستوں یا لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں میں کوئی غلاظت نہ پھینکیں اور ان کو گندہ نہ کریں رسول کریم ال نے فرمایا ہے کہ اس شخص پر خدا کی ناراضگی نازل ہوتی ہے جو راستوں میں پاخانہ کرتا ہے یا درختوں کے نیچے جہاں لوگ آکر بیٹھتے ہیں۔ ۲۲۲ ۔ اسی طرح مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ راستوں اور پلک جگہوں کو صاف رکھنے کی کوشش کرے اور جس قدر مرد ان کے صاف کرنے میں دے سکتا ہے دے۔ چنانچہ رسول کریم فرماتے ہیں جو شخص راستہ میں سے لوگوں کو ایذاء دینے والی چیزیں ہٹاتا ہے اس پر خدا کا فضل نازل ہوتا ہے۔ ۲۲۳ مسلم شہری کا ایک یہ بھی فرض ہے کہ اگر وہ چیزیں فروخت کرے تو ضرر رساں چیزوں کو فروخت نہ کرے۔ مثلا سڑی ہوئی یا موسم کے لحاظ سے بیماریاں پیدا کرنے والی چیزوں کو اس کے لئے یہ کہنا کافی نہیں کہ لوگ جان کر اور سوچ سمجھ کر ان چیزوں کو لیتے ہیں بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ خود لوگوں کی صحت کا خیال رکھے اور ایسی چیزوں کو فروخت ہی نہ کرے ۔ مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ پبلک جگہوں پر بلند آواز سے لڑے اور جھگڑے نہیں اور لوگوں کے امن اور آرام میں خلل نہ ڈالے اور اس کا یہ بھی فرض ہے کہ ایسی جگہیں کہ جن کو لوگ استعمال کرتے ہیں ان کو گندہ نہ کرے ۔ مثلاً کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے یا اور کوئی ظت ان میں نہ پھینکے اور اس کا یہ بھی فرض ہے کہ گندہ کا ہے کہ گندہ کلام منہ پر نہ لائے اور نہ : پبلک جگہوں پر کوئی ایسا فعل کرے جو لوگوں کو ایذاء دیتا ہو۔ مثلاً ننگا نہ پھرے یا اور ایسی ہی کوئی حرکت نہ غلاظت کرے۔ پھر اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایک مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی باتیں سکھاتا رہے اور بد باتوں سے روکتا رہے مگر نرمی اور محبت سے سکھائے تا لوگ جوش میں آکر حق سے اور بھی دور نہ ہو جائیں اور مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ لوگوں کو علم سکھائے اور جو کچھ اُسے معلوم ہو اُسے چھپائے نہیں بلکہ لوگوں تک اس کا فائدہ عام کرے۔ کیونکہ رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی علم کو چھپاتا ہے اور باوجو د لوگوں کے پوچھنے کے