انوارالعلوم (جلد 8) — Page 281
انوار العلوم جلد ۸ ۲۸۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہے۔ ایک اس شخص کو جو فقر سے نکلنے کی بہت کوشش کرتا ہے مگر اسے کوئی کام ہی نہیں ملتا یا وہ بالکل کام کر ہی نہیں سکتا۔ دوسرے وہ شخص جس پر کوئی ایسی چٹی پڑ گئی ہو جو اس کے خیال و گمان سے باہر تھی پس ایسے شخص کے لئے چندہ جمع کیا جا سکتا ہے اور تیسرے ان لوگوں کے لئے سوال جائز ہے کہ جن پر کوئی قومی جرمانہ آپڑا ہو ۲۱۲ ۔ یعنی کسی شخص نے کوئی خون وغیرہ کر دیا ہو اور قوم پر تاوان پڑ گیا ہو تو وہ لوگ سوال کر سکتے ہیں۔ ایک فرض مسلم شہری کا یہ ہے کہ جو شخص اس کے سامنے سے آئے اسے السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کے ۲۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالی کی طرف سے تم پر سلامتی ہو گویا ہر وقت تعلقات فی مابین کی درستی کی کوشش کرتا رہے۔ پھر جو شخص آتا ہوا ملے اور وہ واقف اور دوست ہو تو مسلم شہری کا فرض یہ ہے کہ اس سے مصافحہ کرے۔ اسی طرح مسلم شہریوں کے یہ فرائض مقرر کئے گئے ہیں کہ جو لوگ اپنے محلہ کے یا دوسرے واقفوں میں سے بیمار ہوں ان کی عیادت کے لئے جائیں اور ان کی تسلی اور تشفی کریں گھر میں گھیں تو پہلے اجازت لے لیں۔ پہلے السّلامُ عَلَيْكُمْ کہیں اگر گھر میں کوئی ہو اور جواب دے کہ اس وقت نہیں مل سکتا تو بلا ملال کے واپس چلے جائیں۔ اگر کوئی نہ ہو تو بھی واپس چلے جائیں۔ ۲۱۸۔ اگر ان کے سامنے کوئی شخص کوئی ایسی بات کہہ دے جو کسی دوسرے شخص کے خلاف ہو تو اس کو دبا دیں اور اس شخص تک نہ پہنچائیں جس کو کی گئی ہے ورنہ رسول کریم فرماتے ہیں کہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ بات اس نے کسی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ کہنے والے کی مثال تو ایسی تھی کہ اس نے تیر مارا اور لگا نہیں اور جس نے اس کو وہ پہنچادی جس کے حق میں کی گئی تھی اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس نے تیراٹھا کر اس شخص کے سینے میں چھو دیا ۔ ۲۱۹ اسی طرح مسلم شہریوں کا یہ فرض ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے اس کے جنازے کی تیاری میں مدد دیں اور قبر تک لے جائیں اور دفنائیں ۲۲۰۔ لیکن سب کے جانے کی ضرورت نہیں اگر بقدر ضرورت آدمی چلے جائیں تو یہ کافی ہو گا۔ لیکن اگر کوئی بھی نہ جائے تو سب گنہگار ہونگے اس فرض کی ادائیگی کا مسلمان اس قدر خیال رکھتے تھے کہ صحابہ کے زمانہ کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں تک کے جنازوں کے ساتھ مسلمان جاتے تھے۔ اسی طرح مسلم شہریوں کا فرض ہے کہ ایسی باتیں جو وقار کے خلاف ہوں اور لوگوں کو