انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 271

انوار العلوم جلد ۸ ۲۷۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام روشنی ڈالدی ہے اور گو میرے نزدیک اس علم کے ماہرین استنباط نتائج میں حد سے بہت ہی بڑھ گئے ہیں لیکن پھر بھی اس حد تک ان کی بات درست ہے اور اسلام ان کی تائید کرتا ہے کہ ماں باپ کی دماغی قابلیتوں اور ان کے خیالات کا اثر ایک حد تک اولاد پر ضرور پڑتا ہے پس اس وجہ سے خاوند اور بیوی کا انتخاب ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے۔ پس شریعت اسلام نے پہلی بنیاد تو تمدن کی یہ رکھی کہ نکاح میں عقل اور فہم اور ذکا کو خوبصورتی اور مال اور خاندان پر ترجیح دیدی ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ اسلام حسب نسب یا مال یا خوبصورتی کو بالکل ہی نظر انداز کرتا ہے بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ اسلام ان کو اصل مقصود قرار نہیں دیتا۔ اگر کوئی عورت مرد دیانتداری سے محض ذہانت اور اخلاق اور دین کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی خوبصورتی اور مال اور حسب و نسب بھی مل جاتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے مگر یہ امور مقصود نہیں ہونے چائیں۔ نے چائیں۔ اگر شادیاں اس اصل پر ہونے لگیں تو ملک کی اخلاقی حالت کی درستی کے علاوہ آئندہ نسلیں نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی پیدا ہوں۔ ا اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اسلام نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ علاوہ اس کے کہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کی نسبت تسلی کرلیں عورت کے رشتہ دار بھی تسلی کرلیں کہ واقع میں مرد ایسے اخلاق کا ہے کہ اس سے رشتہ کرنا عورت کے لئے بھی اور آئندہ نسل کے لئے بھی مفید ہو گا اور نکاح کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ مرد کی پسند ہو عورت کی منظوری ہو اور عورت کے باپ یا بھائی جو خاندان کا بڑا مرد ہو اس کی منظوری ہو اور اگر کوئی مرد خاندان میں نہ ہو تو حاکم شہر اس امر کی تسلی کرے کہ کسی عورت کو کوئی شخص دھوکا دے کر تو شادی نہیں کرنے لگا۔ عورت اور مرد میں اس وجہ سے فرق رکھا گیا ہے کہ مرد طبعاً ایسے امور میں حیا کم کرتا ہے اور خود دریافت کر لیتا ہے اور عورت شرم کرتی ہے اور اس کے احساسات تیز ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ جلد دھو کا میں آجاتی ہے۔ پس اس کے لئے اس کے خاندان کے بڑے مرد کی تحقیق اور منظوری یا ایسے کسی آدمی کی عدم موجودگی میں حاکم شہر کی منظوری ضروری رکھی ہے ۔ اگر اس حکم پر عمل کیا جائے تو وہ بہت سے دھوکے اور فریب جو شریف الطبع اعتماد کرنے والی عورتوں سے کئے جاتے ہیں یک دم دور ہو جائیں۔ چونکہ اسلام میں پردہ کا حکم ہے اس لئے نکاح کے ابتدائی امور طے ہو جانے اور دیگر امور میں تسلی ہو جانے پر مرد اور عورت کو آپس میں ایک دوسرے کو کھلے طور