انوارالعلوم (جلد 8) — Page 270
انوار العلوم جلد ۸ ۲۷۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ۔ دوسری قسم تمدن کی بادشاہت اور ملکیت کے تعلقات کا بیان ہے یہ قسم بادشاہ اور رعایا اور مالک اور نوکر کے تعلقات پر بحث کرتی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کے ماتحت ہے۔ تیسری قسم تمدن کی یہ بیان کی ہے کہ ایک ملک کا دوسرے ملک سے اور ایک مذہب کا دوسرے مذہب سے کیا تعلق ہو اور کن قواعد پر انکی بنیاد ہو ؟ یہ قسم اللہ تعالیٰ کی صفت الوہیت کے ماتحت ہے۔ ز صفت ربوبیت خاندان اور برادری کے تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے صفت مالکیت بادشاہت اور ملکیت پر روشنی ڈالتی ہے اور صفت الوہیت تمام بنی نوع انسان کے تعلقات اور مذہبی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اب میں تینوں اقسام کے متعلق اسلام کے الگ الگ احکام بیان کرتا ہوں۔ پہلا تعلق بقائے نسل کے قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے میاں بیوی کا معلوم ہوتا ہے اس تعلق کی درستی پر خاندان کی اصلاح کا بہت کچھ دار و مدار ہے اور خاندانی تعلقات پر قومی تعلقات کا دارومدار ہے اور اس طرح یہ سلسلہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔ اسلام میاں بیوی کے تعلق پر پہلی بحث تو یہ کرتا ہے کہ اس تعلق کی بناء اخلاق پر ہونی چاہئے نہ کہ ظاہری حسن و شکل پر یا مال و دولت پر ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے نکاح سے پہلے تقویٰ کا خیال کر لو اور آئندہ جس قسم کی اولاد اس تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہو گی اس پر غور کر لو۔ رسول کریم اللہ فرماتے ہیں تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لَا رُبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفُرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ١٩٢ کوئی شخص تو حسب کی خاطر نکاح کرتا ہے کوئی نسب کی خاطر کوئی خوبصورتی کی خاطر کوئی مال کی خاطر اے مسلمان ! خدا تجھے سمجھ دے تو دیندار اور نیک عورت سے شادی لیجیو۔ کیسی پاکیزہ تعلیم ہے اگر شادی کرتے وقت اس امر کو مد نظر نہ رکھا جائے کہ عورت یا مرد کا دماغ اور طبعی میلان اور ذہانت کیسے ہیں تو اول تو باہمی تعلقات ہی ٹھیک نہیں رہیں گے جس سے تمدن خراب ہو گا۔ دوسرے اولاد کبھی اچھی نہ پیدا ہو گی کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ کی ذہانت اور ان کے افکار کا اثر اولاد پر ضرور پڑتا ہے۔ ہوشیار ماں باپ کے لڑکے ہو شیار پیدا ہوتے ہیں اور بیوقوف ماں باپ کے بچے بیوقوف پیدا ہوتے ہیں چنانچہ یو جنکس (EUGENICS - علم اصلاح نوع انسانی کے علم نے تو اب اس مضمون پر بہت کچھ