انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 265

1۔ انوار العلوم جلد ۸ ۲۶۵ احمد بیت یعنی حقیقی اسلام ان آیات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان تمام راستوں کو مرد اور عورت بند کریں جن سے گناہوں کی تحریک انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ ان راستوں میں سے پہلا راستہ آنکھ ہے اس کے متعلق حکم دیا کہ نظر کو نیچا رکھیں۔ دوسرا راستہ کان ہے اس کے متعلق حکم دیا کہ عورت مرد اور مرد عورت کی آواز راگ وغیرہ کے طور پر نہ سنے اور بلا وجہ اور بے تعلق عورتوں یا مردوں کے حسن کے قصے اور واقعات نہ سنیں۔ تیسرا راستہ جلد ہے اس کے متعلق حکم دیا کہ ایک دوسرے کو بلا وجہ اور بلا ضرورت طبعی چھوئیں نہیں چونکہ آنکھیں نیچی رکھنے کا فعل ایسا ہے کہ ایسے مقامات پر جہاں مرد اور عورت ضرور تا جمع ہوتے ہوں جیسے کہ شارع عام ہے مشکل ہوتا ہے اس لئے عورتوں کو کہا کہ جب وہ باہر نکلیں تو اپنے سروں سینوں اور منہ کے ایسے حصوں کو ڈھانپ لیں جو راستہ دیکھنے کے کام یا سانس لینے کے کام نہیں آتے ۔ یہ احکام ایسے با حکمت ہیں کہ اگر کوئی بلا تعصب اور بے تعلق ہو کر ان پر غور کرے تو ان کی خوبی کا اقرار کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ ان سے بدیوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپ کے لوگوں پر بوجہ ان کی عادت اور قدیم رسوم کے یہ خیالات شاق گزرتے ہیں مگر ان کی حیرت اور گھبراہٹ صرف اور صرف عادات اور رسوم کے سبب سے ہے ورنہ ان احکام پر عمل کرنا مرد اور عورت کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ اسلام ہرگز یہ حکم نہیں دیتا کہ عورتیں گھروں میں بند ہو کر بیٹھ جائیں۔ ابتدائے اسلام میں ہرگز مسلمان عورتیں ایسا نہیں کرتی تھیں بلکہ جنگوں میں شامل ہوتی تھیں زخمیوں کی مرہم پٹیاں کرتی تھیں ، علوم مردوں سے پڑھتی تھیں اور مردوں کو پڑھاتی تھیں، سواری کرتی تھیں غرض ان کو پوری عملی آزادی حاصل تھی۔ صرف اس امر کا ان کو حکم تھا کہ اپنے سر گردنیں اور منہ کے وہ حصے جو سر اور گردن کے ساتھ وابستہ ہیں ان کو ڈھانپے رکھیں تا وہ راستے جو گناہ پیدا کرتے ہیں بند رہیں اور اگر اس سے زیادہ احتیاط کر سکیں تو نقاب اوڑھ لیں لیکن یہ کہ گھروں میں بند رہیں اور تمام عملی کاموں سے الگ رہیں یہ نہ اسلام کی تعلیم ہے اور نہ اس پر پہلے کبھی عمل ہوا ہے۔ جو پردہ آج کل مسلمانوں میں اکثر ممالک میں نظر آتا ہے یہ سیاسی پردہ ہے یعنی چونکہ بہت سے ممالک میں عورتوں کی عزت صرف روپیہ قرار دی گئی ہے جو عورت کی خطرناک ہتک ہے اس لئے مسلمانوں نے سیاستاً ایسے ممالک میں اپنے لئے بعض ایسی قید میں لگالی ہیں جو انکی عزت اور عصمت کی حفاظت کریں نہ اس لئے کہ ان کا مذہب ایسا حکم دیتا ہے۔