انوارالعلوم (جلد 8) — Page 264
انوار العلوم جلد ۸ ۲۶۴ احمدیت یعنی حقیقی اسلام انسان حسن کو دیکھتا ہے یا حسن کی تعریف کو سنتا ہے یا خوبصورت آواز سنتا ہے یا ایک نرم اور ملائم۔ جسم کو چھوتا ہے تو اگر وہ حسن یا اس کا ذکر یا آوا ز یا جسم اس کی خواہش کے مطابق ہوتا ہے تو اس کو اس کی طرف رغبت پیدا ہو جاتی ہے اور نتیجہ وہ انتہائی قرب ہوتا ہے جسے گل دنیا کی عقلوں نے اخلاق اور سوسائٹی کے لئے ایک خطرناک زہر قرار دیا ہے پس اسلام نے اس دروازہ کو بند کرنے کے لئے حکم دیا ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّبِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَو الطَّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ ليُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ ۱۸۹ تُفْلِحُونَ ١٨٩۔ مومنوں کو کہہ دے اپنی آنکھوں کو نیچا رکھا کریں اور ان تمام راستوں کی جن سے بدی کا خیال داخل ہوتا ہے حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بہت ہی نیکی پیدا کرنے کا موجب ہو گا۔ اللہ تعالٰی اس کو خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اسی طرح مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھوں کو نیچا رکھیں اور تمام ان راستوں کو جن سے بدی کا خیال داخل ہوتا ہے محفوظ رکھیں اور اپنی زینت کو پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ خود بخود ظاہر ہو اور چاہئے کہ اپنی ت کو لوگوں پر ظاہر نہ گردن سر اور منہ کو کپڑے سے ڈھانکیں اور اپنی زینت کو سوائے اپنے خاوندوں یا اپنے باپ دادوں یا اپنے خاوندوں کے باپ دادوں یا اپنی اولا دیا اولاد کی اولا دیا اپنے خاوندوں کی اولا دیا انکی اولاد یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کی اولاد یا بہنوں کی اولاد یا عورتوں یا غلاموں یا ایسے ملازم مردوں کے جو بالکل بوڑھے ہیں یا جن میں شہوانی مادے نہیں پائے جاتے ۔ یا بچوں کے جو ابھی تک بقائے نسل کے تعلقات سے واقف نہیں کسی پر ظاہر نہ کریں اور چاہئے کہ ایسے طور پر پیر نہ ماریں کہ انکی ہ انکی مخفی زینت اس سے ظاہر ہو اور اے مومنو! تم سب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو تا کہ کامیاب ہو جاؤ۔