انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 262

انوار العلوم جلد ۸ ۲۶۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام پیدائش کے زمانہ سے ہی شروع کریں گے۔ یہ بالکل عقل کے خلاف ہو گا کہ وہ اس کے پیدا ہونے پر تو اس کے کان میں اسلام کے احکام ڈالیں لیکن پھر جب وہ بڑھنا شروع کرے تو اسے چھوڑ دیں حتی کہ سال گزرنے پر پھر اس کی تربیت شروع کریں۔ بچہ ہر روز عقل میں ترقی کرتا ہے جس بچہ کو پیدائش کے وقت نیک باتوں کی تلقین کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس کو بعد میں تلقین کرنے کا حکم پہلے سے بھی زیادہ سخت ہونا چاہئے پس اس حکم میں در حقیقت والدین کو نصیحت ہے۔ دوسرا اہم فائدہ اس حکم میں یہ ہے کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ بچہ میں سمجھنے کی عقل تدریجی ہے اور اس کا زمانہ پیدائش سے شروع ہوتا ہے۔ در حقیقت وہ حالت جس کو لوگ سمجھ اور ہوشیاری کی حالت کہتے ہیں وہ یکدم کہیں سے نہیں آجاتی وہ اس علم سے پیدا ہوتی ہے جو بچہ پیدائش کے وقت سے جمع کر رہا تھا اور اس کے دماغ پر سے کوئی اثر اس کی پیدائش کے وقت سے مٹتا نہیں بلکہ نقش رہتا ہے اور خود کو بھلایا جائے مگر اپنا ورثہ عقل اور فہم کی صورت میں انسان کے پاس چھوڑ جاتا ہے۔ چنانچہ تجربہ اس امر پر شاہد ہے کہ بعض ایسے واقعات معلوم ہوئے ہیں کہ بعض آدمیوں پر اعصابی کمزوری کا حملہ ہو کر وہ خود رفتہ ہو گئے اور انہوں نے ایسی زبانیں بولنی شروع کر دیں جو ان کو معلوم نہ تھیں۔ سننے والوں نے اس کو غیر معمولی قرار دیا مگر آخر معلوم ہوا کہ وہ جو کچھ بولتے تھے وہ چند سنی ہوئی باتیں تھیں جو انہوں نے نہایت بچپن کی حالت جب میں جبکہ وہ پہلھوڑے میں پڑے۔ ے ہوئے تھے ان زبانوں کے بولنے والوں سے سنی تھیں۔ دماغ کے حصہ موثرہ میں نقص پیدا ہو گیا تو حصہ متاثرہ کام کرنے لگا اور اس کے پرانے نقش سامنے آنے لگ گئے۔ غرض اسلام کی یہ تعلیم نہایت ہی حکمت پر مبنی ہے اور اس پر عمل کر کے دنیا کے اخلاق کی درستی نہایت عمدگی سے ہو سکتی ہے۔ ساتواں دروازہ جو اسلام نے اخلاق کی درستی کے لئے تجویز کیا ہے وہ ان دروازوں کا بند کرنا ہے جن سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اسلام کے اصول کے مطابق بدی باہر سے پیدا ہوتی ہے ورنہ انسان کا دل نیک ہے یعنی انسان کو ایک ایسی ضمیر دی گئی ہے جو اس امر کو پسند کرتی ہے کہ نیکی کی جائے اور بدی سے اجتناب کیا جائے۔ تمام کے تمام انسان خواہ وہ کسی مذہب وملت کے ہوں وہ اسی فطرت کو لے کر آتے ہیں۔ مگر خالی اس طاقت سے انسان کا کام نہیں چل سکتا کیونکہ ضمیر تو صرف اس کو یہ بتاتی ہے کہ نیکی کر اور بدی سے بیچ باقی سوال یہ رہ جاتا