انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 261

انوار العلوم جلد ۸ ۲۶۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نقصان۔ چنانچہ اسلام درندے جانوروں اور شکاری پرندوں اور اندھیرے اور غلاظت میں رہنے والے جانوروں اور حلال جانوروں میں سے غلاظت کا استعمال کرنے والے جانوروں کا گوشت منع کرتا ہے۔ پینے کی چیزوں میں سے شراب کو حرام فرمایا ہے کیونکہ یہ عقل پر پردہ ڈالتی اور باریک اعصاب کو جو ذہانت اور علم کو ترقی دینے والے ہیں صدمہ پہنچاتی ہے اور گو اسلام اقرار کرتا ہے کہ شراب میں بعض فائدے بھی ہیں مگر فرماتا ہے کہ اس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ ہے اس لئے اس کو بالکل ترک کر دینا چاہئے۔ غرض اسلام نے اخلاق پر خوراک کے اثر کو قبول کیا ہے اور اس کو خاص قیود اور شرائط سے محدود اور مشروط کر کے اخلاق کے حصول کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے اور صرف وہی غذائیں استعمال کرنے کی اور اسی مناسبت سے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے جن سے اور جس حد تک ان سے اخلاق پر نیک اثر پڑتا ہے۔ تیسرا راستہ نیک اخلاق کے حصول کا اسلام نے یہ تجویز کیا ہے کہ بچپن سے بچہ کے دل پر نیک باتوں کا اثر ڈالا جائے۔ در حقیقت اس نکتہ میں اسلام سب ادیان سے منفرد ہے۔ عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہوا ہے کہ شریعت کا اثر بچہ کے بالغ ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ مگر اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بیشک جب بچہ بالغ ہو گا تبھی سے اس پر شریعت کی حجت ہوگی۔ مگر جو باتیں کہ عادت اور مزاولت سے تعلق رکھتی ہیں جب تک بچپن سے انکی طرف بچہ کو توجہ نہ دلائی جائے گی وہ ان پر آسانی سے کاربند نہ ہو سکے گا اور ہمیشہ وہ اسے دو بھر معلوم ہوں گی۔ علاوہ ازیں اسلام ہمیں بچہ کی تربیت کا زمانہ وہ نہیں بتاتا جب بچہ کچھ ہوش والا ہو جاتا ہے بلکہ وہ ہمیں اس سے بہت پہلے لے جاتا ہے یعنی اس کی پیدائش کے وقت تک۔ چنانچہ اسلام حکم دیتا ہے کہ جس وقت بچہ پیدا ہو اس وقت اس کے کان میں اسلام کے احکام جو اذان میں بیان ہیں ڈالے جائیں دائیں طرف بھی اور بائیں طرف بھی اور اس میں علاوہ اور حکمتوں کے یہ حکمت بھی ہے کہ بعض دفعہ بچہ ایک کان سے بھرا ہوتا ہے پس دونوں طرف کان میں ان آوازوں کو ڈالنے سے وہ بھر حال سن لے گا سوائے اس صورت کے کہ وہ بالکل بھرا ہو ۔ یہ حکم بظاہر ایک رسم معلوم ہوتا ہے لیکن در حقیقت اس میں دو بڑے فواکہ مخفی ہیں ایک تو والدین کو یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ پیدائش سے بچہ کے کان میں نیک باتیں ڈالنے لگیں اور اس میں کیا شک ہے کہ جو والدین اسلام کے حکم کی حقیقت کو سمجھیں گے وہ بچہ کی تربیت کو اس کی