انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 249

انوار العلوم جلد ۸ ۲۴۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام گا تو یہ شخص مجھے اور نقصان پہنچائے گا گویا ضرر سے بچنے کے لئے یا دوسرے لوگوں کو ضرر سے بچانے کے لئے انسان سزا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو تعلیم ہم تجھے دیتے ہیں یعنی اگر عفو سے کسی انسان کی اصلاح ہوتی ہو تو اس وقت عفو کرنا چاہئے۔ اگر تو اس پر عمل کرے گا تو اس فائدہ سے جو تجھے سزا میں مد نظر رہتا ہے تجھے زیادہ فائدہ ہو گا کیونکہ سزا دینے میں ضرر سے بچنے کی توقع ہے تو بر محل عفو کے نتیجہ میں نفع کی امید ہے کیونکہ اغلب گمان ہے کہ وہ شخص اس سلوک سے متأثر ہو کر تیرا دوست اور مددگار بن جائے گا۔ اسی طرح احسان اور نیک سلوک اور لوگوں کی مدد کرنے کے متعلق فرماتا ہے۔ احسن كَمَا أَحْسَنَ اللهُ إِلَيْكَ ۱۷۲؎ تو لوگوں سے نیک سلوک کر اور ان کو اپنے مال اپنے علم اور اپنے رسوخ میں شریک کر کیونکہ تجھ پر اللہ تعالی نے احسان کیا ہے۔ یعنی جن قوتوں اور طاقتوں سے تو نے کمایا ہے اور جن چیزوں کے ذریعہ سے تو نے کمایا ۔ سے تو نے کمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور تجھے بطور احسان ملی ہیں پس جس طرح تجھ پر احسان کیا گیا ہے تو بھی احسان سے کام لے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین یا کانیں اور جو چیزیں انسان کے لئے مال یا علم حاصل کرنے میں محمد ہوتی ہیں وہ سب اس کی پیدائش سے پہلے کی موجود ہیں اور سب ہی بنی نوع انسان اس میں حق رکھتے ہیں پس اگر کسی انسان کو کو اللہ تعالیٰ خاص موقع دے موقع دے تو اس کے بدلہ میں اس کا فرض ہے کہ اس نعمت میں دوسرے بنی نوع انسان کو بھی شریک کرے ۔ اسی طرح مثلاً ظلم سے روکنے کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ ظلم سے ظلم پیدا ہوتا ہے اور آخر سب ہی برباد ہوتے ہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إصلاحها ۱۷۳ ظلم نہ کرو کیونکہ اللہ تعالی ظلم کو پسند نہیں کرتا اور اس ذریعہ سے بعد اس کے کہ زمین میں امن قائم ہو چکا ہو فساد نہ کرو۔ یعنی ظلم کا نتیجہ کبھی امن اور استحکام نہیں ہو گا۔ تم اگر ظلم اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے کرتے ہو تو یہ نتیجہ کبھی پیدا نہیں ہو گا کیونکہ ظلم طبائع میں جوش پیدا کرتا ہے اور لوگ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر ظاہر میں نہیں تو باطن میں اس کے خلاف تدبیر کرتے ہیں اور امن جو ساری طاقت کا منبع ہے وہ جاتا رہتا ہے۔ حسد کے متعلق رسول کریم اللہ فرماتے ہیں اِیاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ۱۷۴۔ حسد نہ کرو کیونکہ حسد انسان کے آرام کے