انوارالعلوم (جلد 8) — Page 248
انوارالعلوم جلد ۸ ۲۴۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نیک اخلاق کو نیک یا بد اخلاق کو بد کہنے کی وجہ اس مسئلہ کے متعلق بھی اسلام کی تعلیم اجمالی اور تفصیلی ہے ۔ اجمالی تعلیم تو یہ ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون ۱۹ میں نے بڑوں اور چھوٹوں کو نہیں پیدا کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری صفات کو اپنے اندر پیدا کریں ۔ پس اخلاق فاضلہ کے حصول کی پہلی غرض تو یہ ہے کہ اس کے بغیر اس منبع تقدیس سے انسان کو تعلق نہیں ہو سکتا جس کے بغیر انسان کی زندگی زندگی ہی نہیں ہے۔ وہ شریر اور بد خلق کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی صفات پاکیزہ کو اپنے اندر پیدا کر کے اس کے سے ہو جائیں تا اس کا قرب حاصل ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً ۱۷۰۔ ہم نے دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ چیزیں پیدا کر کے انسان کو اس میں مقرر کیا تا کہ ہم یہ دیکھیں کہ انسانوں میں سے کون زیادہ خوبصورت عمل کرتا ہے یعنی کون کس قدر خد اتعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ پس اصل وجہ تو بعض اخلاق کو نیک کہنے کی یہی ہے کہ وہ صفات الہیہ کا پڑ تو اپنے اندرر رکھتے ہیں اور بعض اخلاق کو بد - اخلاق کو بد کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ صفات الہیہ کے مخالف ہیں۔ ا اس میں کیا شک ہے کہ جو روشنی سے حصہ نہ لے گا وہ تاریک ہو گا اور جس جس قدر نور سے دور ہو گا اسی قدر ظلمت اس پر طاری ہوگی۔ مگر اس اجمالی تعلیم کے علاوہ اسلام نے مختلف اخلاق کے متعلق تفصیلی وجوہ بھی بیان کی ہیں جن سے لوگوں پر ان کے اچھے یا برے ہونے کی حالت کو منکشف کیا ہے تا لوگوں کو نیک اخلاق کی طرف رغبت پیدا ہو اور بد اخلاق کی طرف سے نفرت ہو جن میں سے بعض احکام کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔ اور اعلیٰ اخلاق میں سے میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک مخلق رافت کا بر محل استعمال ہے جسے عفو کہتے ہیں۔ اس خلق کی وجہ علاوہ اوپر بیان کردہ وجہ کے قرآن کریم یہ بیان فرماتا ہے ادفع بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ، جب کوئی شخص تیرے ساتھ بدی کرے اور تجھ پر ظلم کرے اور دکھ دے تو تو اس کے ساتھ نرمی اور عفو کا برتاؤ کر کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لڑائی کی جڑ کٹ جائے گی اور وہ شخص تیرا گہرا دوست ہو جائے گا۔ کیا ہی لطیف اور جوش پیدا کرنے والی وجہ ہے انسان سزا اس لئے دیتا ہے کہ اگر سزا نہ دوں۔