انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 226

انوار العلوم جلد ۸ ۲۲۶ احمد بیت یعنی حقیقی اسلام اور اس کے مطابق تعلیم دی ہے۔ پس وہی مذہب اخلاقی تعلیم میں اس کے مقابلہ پر آ آسکتا ہے جو پہلے یہ ثابت کرے کہ اس نے بھی اخلاق کو سمجھا ہے اور اس کے مطابق تعلیم دی ہے ورنہ طبعی تقاضوں کا ذکر کر کے ان کا نام اخلاقی تعلیم رکھنا ظلم اور زبردستی ہے ۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس بعد کہ اسلام کے نزدیک اچھے اخلاق کے معنے یہ ہیں ہیں کہ انسان طبیعی تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے ماتحت استعمال کرے اور برے اخلاق کے یہ معنے ہیں کہ بلا سوچے سمجھے بے محل اور بے موقع طبعی تقاضوں کو استعمال کرے ۔ میں چند احکام کے متعلق بطور مثال اسلامی تعلیم پیش کرتا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ کس طرح ہر ایک طبعی تقاضے کو اسلام نے حد بندی کے نیچے رکھا ہے اور ا رکھا ہے اور اس سے بہترین نتائج پیدا کئے ہیں ۔ ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے اخلاق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے یعنی اخلاق قلب اور اخلاق جوارح اور اس طرح اخلاق کے معیار کو بہت بلند کر دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ١٣٣ تم بدیوں کے قریب بھی نہ جاؤ نہ ان بدیوں کے جو لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں اور نہ ان کے جو بالکل مخفی ہیں اور لوگوں کی نظروں میں آہی نہیں سکتیں یعنی جن کا مرتکب دل ہوتا ہے ۔ ان کے معلوم کرنے کا کوئی ظاہری سامان لوگوں کے پاس نہیں سوائے اس کے کہ کرنے والا خود ہی بتائے ۔ ای طرح فرماتا ہے وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ ۱۳۴۔ اگر تم ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یعنی اس کے مطابق عمل کرو تو بھی اور اگر تم اس کو جو تمہارے دلوں میں ہے چھپاؤ یعنی صرف دل کے خیالات تک محدود رکھو جوارح اس کے مطابق کوئی عمل نہ کریں تو بھی اللہ تعالیٰ اس کے متعلق تم سے سوال کرے گا یعنی دریافت کرے گا کہ تم نے کیوں دل میں بدی کو جگہ دی یا بدی پر عمل کیا ؟ اعمال انسانی کو ظاہر و باطن کی دو قسموں میں تقسیم کرنے کے بعد اسلام نے ان کو پھر دو حصوں میں تقسیم کیا ہے یعنی ان میں سے بعض کو اچھا قرار دیا ہے اور بعض کو برا چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ ١٣٥ خلق دو قسم کے ہیں ایک اچھے اور ایک بُرے اور اچھے خلق برے خلقوں پر غالب آجاتے ہیں یعنی جو شخص اچھے اخلاق کو اختیار کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ بڑے اخلاق پر غالب آجاتا ہے۔ پھر اچھے اور بڑے خلقوں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے یعنی وہ خلق جن کا اثر صرف اس کی ذات پر پڑتا ہے اور ایک وہ جن کا اثر