انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 225

انوار العلوم جلد ۸ ۲۲۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام سمجھا اور اخلاق کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةً مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ ۔ ۳۱۔ اور بدی کا بدلہ اتنا ہی ہے جتنا کہ جرم تھا پھر جب کوئی کسی کو نقصان پہنچائے اور وہ اس کے گناہ کو معاف کر دے اس طرح کہ اس نے اصلاح پیدا ہوتی ہو اس کا نتیجہ فسادنہ ہو تو ایسے شخص کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی جو جرم سے زیادہ سزادے یا با وجود اس کے کہ عقلاً معلوم ہوتا ہو کہ مجرم کو سزادی گئی تو اس کے اخلاقی اور بھی بگڑ جائیں گے اور وہ اور بھی نیکی سے محروم ہو جائے گا محض دکھ دینے کے لئے اس کو سزا دیدے یا یہ کہ معلوم ہوتا ہو کہ اس شخص کو اگر معاف کیا تو گناہ پر اور بھی دلیر ہو جائے گا اور لوگوں کو نقصان پہنچائے گا معاف کر دے تو ایسا شخص ظالم ہوگا۔ اور خدا اس کے اس فعل کو پسند نہیں کرے گا۔ اب دیکھو کہ اسلام نے کس طرح اخلاق کی حقیقت کو پیش کیا ہے ۔ پہلے بتایا ہے کہ جرم کی اسی قدر سزا دینا اصل حکم ہے گو یہ ایک طبعی تقاضا ہے کہ جس سے نقصان پہنچے اس کو اسی قدر نقصان پہنچایا جائے مگر فرمایا کہ انسان جو با اخلاق بننا چاہتا ہے اس کو اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ آیا سزا سے مجرم کی اصلاح ہوتی ہے یا عفو سے پھر اگر عفو سے اصلاح کا احتمال ہو تو چاہئے کہ عفو سے کام لے اور انتقام نہ لے اور اگر سزا سے اصلاح ہوتی ہو تو محض اپنے دل کی کمزوری کی وجہ سے اسے معاف نہ کر دے کیونکہ اس طرح وہ شخص اصلاح سے محروم رہ جائے گا اور یہ رحم نہیں ہو گا بلکہ ظلم ہو گا۔ اور جو شخص باوجود جاننے کے کہ سزا سے یا عفو سے زید کی اصلاح ہوتی ہے اس کے خلاف کام کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہو گا خواہ اس نے معاف ہی کیوں نہ کیا ہو کیونکہ یہ معافی معافی نہیں بلکہ اپنے ایک بھائی کے اخلاق کو دیدہ و دانستہ تباہ کرنا ہے ۔ رسول کریم اللہ نے اس مضمون کو اور الفاظ میں ادا کر مضمون کو اور الفاظ میں ادا کیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں الْأَعْمَالُ بالنِّيَّاتِ ۱٣٢۔ یعنی انسانی اعمال تو وہ ہیں جو ارادے سے اور نیت کے ماتحت کئے جائ جائیں یعنی جو کام محض طبعی جوش کے ماتحت کیا جاتا ہے وہ ہرگز انسانی عمل نہیں کہلا سکتا بلکہ وہ تو ایک حیوانی جذبہ ہو گا ۔ اگر گھوڑا یا گدھا ان حالات میں ہوتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا ۔ پس جب تک فکر اور غور کے بعد کام کے تمام پہلوؤں کو دیکھ کر کوئی رائے نہ قائم کی جائے اور اس کے مطابق عمل نہ کیا جائے وہ خلق یعنی انسانی فعل نہیں کہلا سکتا۔ الله مذکورہ بالا بیان سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ اسلام نے اخلاق کی حقیقت کو سمجھا ہے