انوارالعلوم (جلد 8) — Page 215
انوارالعلوم جلد ۸ ۲۱۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اس شخص کو پکڑا اور میحون میں اس کے خلاف بغاوت ہو گئی اس کی اپنی بیوی اور اس کا لڑکا اس کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ جبکہ یہ شخص پبلک میں شراب کے خلاف لیکچر دیا کرتا تھا علیحدگی میں خود شراب پیتا تھا اور اور بہت سے اعتراض لوگوں نے اس پر کئے اور آخر اس کو میحون سے بے دخل کیا گیا اور یا تو وہ شہزادوں کی سی زندگی بسر کرتا تھا یا کھانے پینے کو بھی محتاج ہو گیا۔ اور ایک مزدور کی سی مزدوری اس کے گزارے کے لئے مقرر ہوئی ۔ آخر اس پر فالج گرا اور وہ پیر جس سے وہ خدا کے مسیح کو مچھروں کی طرح مسلنا چاہتا تھا بے کار ہو گئے اور آخر مصائب کی برداشت نہ لاکر دیوانہ ہو گیا اور چند دن میں مر گیا۔ اس کی اس طرح موت پر بھی بہت سے امریکن اخبارات نے نوٹ لکھے اور اس پیشگوئی کا بھی ذکر کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق کی تھی ان میں سے ایک اخبار ڈنول گزٹ ے ۔ جون ۱۹۰۷ء کے پرچہ میں لکھتا ہے ۔ اگر احمد اور ان کے پیرو اس پیشگوئی کے جو چند ماہ ہوئے پوری ہو گئی نہایت صحت کے ساتھ پورے ہونے پر فخر کریں تو ان پر کوئی الزام نہیں "۔ اب میں سب سے آخر میں مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت باعث کو بیان کرتا ہوں ۔ اس صفت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی مخلوق کی اندرونی طاقتوں کو ابھار کر ان کو ایسا نشو و نما دیتا ہے کہ وہ کچھ کی کچھ ہو جاتی ہیں اور اس قدر فرق پیدا ہو جاتا ہے کہ جس طرح ایک مردے اور زندے میں فرق ہے۔ یہ صفت اس شکل میں صرف اسلام نے ہی بیان کی ہے گو ایک مخلوط سا خیال اس کے متعلق تمام اقوام میں بھی پایا جاتا ہے یہ صفت بھی کبھی ثابت نہیں ہو سکتی اگر اس کا زندہ نمونہ ہمیں کسی انسان میں نظر نہ آئے اور نہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کا کامل قرب حاصل کر چکا ہے جب تک اس صفت کا ظہور اس میں نہ ہو ۔ بلکہ حق یہ ہے کہ چونکہ انبیاء دوسروں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتے ہیں اس لئے اس صفت کا ظہور سب سے زیادہ ضروری ہے جب تک وہ ایسی جماعت پیدا نہیں کرتے جو صفت باعث کے ماتحت اپنی پہلی مردنی کو ترک کر کے زندہ نہیں ہو جاتی اور ایک چھوٹے حشر کا نمونہ ہم اس دنیا میں نہیں دیکھ لیتے نہ ہمارے دلوں کو اطمینان ہو سکتا ہے اور نہ انبیاء کی بعثت کی غرض پوری ہوتی ہے۔ اس نکتہ پر زور دینے کے لئے قرآن کریم نے انبیاء کی کامیابی کا نام قرآن کریم میں بار بار قیامت اور ساعت رکھا ہے جس سے بعض لوگوں نے نادانی سے یہ نتیجہ نکال لیا ہے کہ شاید