انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 209

A انوار العلوم جلد ۸ ۲۰۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام آپ کا چھوٹا لڑ کا مبارک احمد ایک دفعہ بیمار ہوا اور اس کی بیماری بہت سخت بڑھ گئی اور غش پر غش آنے لگے آخر اس کی حالت موت کی سی ہو گئی اور جو اوپر نگران تھے انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ بالکل مر چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پاس کے کمرے میں دعا میں مشغول تھے کہ کسی نے آواز دی کہ اب دعابس کر دیں کیونکہ لڑکا فوت ہو گیا ہے ۔ آپ اٹھ کر وہاں آئے جہاں وہ لڑکا تھا اور آپ نے اس کے جسم پر ہاتھ رکھ کر توجہ کی تو دو تین منٹ میں یہ پھر سانس لینے لگ گیا۔ اسی طرح ایک دفعہ خان محمد علی خان صاحب جو نواب صاحب مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں اور ہجرت کر کے قادیان میں ہی ایسے ہیں ان کے لڑکے میاں عبدالرحیم خان صاحب بیمار ہوئے ان کو ٹائیفائیڈ کی بیماری تھی دو ڈاکٹر اور حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب جو دیسی طریق کے علاج کے بہت بڑے ماہر تھے اور مہاراجہ صاحب جموں کے شاہی طبیب رہ چکے تھے معالج تھے۔ آخر بیماری کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ مولوی صاحب نے بھی اور دوسرے ڈاکٹروں نے بھی کہہ دیا کہ اب اس مریض کی حالت بیچنے والی نہیں یہ چند گھنٹے کا مہمان ہے علاج کی اب کچھ ضرورت نہیں۔ جب اس امر کی حضرت مسیح موعود کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اس وقت اس لڑکے کے لئے دعا کی اور الہام ہوا کہ اس لڑکے کی موت آچکی ہے تب آپ نے عرض کیا کہ اے خدا ! اگر دعا کا وقت گزر چکا ہے اور اس لڑکے کی موت آچکی ہے تو میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا باذنه ۱۱ کون ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور سفارش کرے مگر اس کے حکم اور اس کی اجازت ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ اس الہام پر میں نے دعا ترک کردی مگر معا دوبارہ الہام ہوا انك انت الْمُجَاز ۱۲۲۔ ہم تجھ کو شفاعت کی اجازت دیتے ہیں۔ اس پر آپ نے شفاعت کی اور اسی وقت باہر آکر کہہ دیا کہ یہ لڑکا بچ جائے گا کیونکہ اللہ تعالی نے میری شفاعت سے اس کو موت سے بچا دیا ہے ۔ چنانچہ وہ فوراً ہی تندرستی کی طرف مائل ہو گیا اور کچھ دنوں میں اچھا ہو گیا۔ عبدالرحیم خان صاحب جن کے متعلق یہ معجزہ ظاہر ہوا خدا تعالی کے فضل سے زندہ موجود ہیں اور اس وقت انگلستان میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ آپ کے والد اور دوسرے گواہوں میں سے بھی اکثر لوگ زندہ موجود ہیں اور سب شہادت دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کی صفت احیاء کا مشاہدہ کیا ہے جب کہ وہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سے ظاہر ہوئی۔