انوارالعلوم (جلد 8) — Page 208
انوار العلوم جلد ۸ ۲۰۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تھے اور الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ ۔ پس آپ کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی صفت قدوسیت بھی ظاہر ہوئی اور آپ کی حالت کو دیکھ کر ہمیں یہ یقین ہوا کہ جس خدا کا یہ بندہ ہے جس نے بچپن کے زمانہ سے آخر تک کوئی گناہ نہیں کیا کوئی اخلاقی یا روحانی کو تاہی نہیں دکھائی بلکہ سب اخلاق حسنہ پر کار بند رہا ہے اور تقویٰ کا زندہ نمونہ دکھایا ہے وہ خود کیسا پاک ہے سُبْحَانَ اللهِ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ ایک صفت اللہ تعالیٰ کی محبی بھی ہے یعنی مُردوں کو زندہ کرنے والا۔ انجیل میں اس قسم کے معجزات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ مسیح نے بہت سے مردے زندہ کئے لیکن آج کون ہے جو مردے زندہ کر کے دکھا سکتا ہے ؟ پرانے قصے ہماری تسلی نہیں کر سکتے ۔ ہم اس صفت پر تبھی یقین کر سکتے ہیں جب اس کا کوئی ثبوت اس دنیا میں بھی دیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسیح موعود علیہ السلام نے اس صفت کے متعلق عملی شہادت بہم پہنچا کر ہمارے ایمانوں کو تازہ کیا ہے ۔ پیشتر اس کے کہ میں اس قسم کے نشانوں کی کوئی مثال بتاؤں پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جن کا اس دنیا میں اپنے پورے جلال سے ظاہر ہونا بعض دوسری صفات کے مخالف پڑتا ہے پس ایسی صفات کو اللہ تعالٰی اس رنگ میں ظاہر نہیں کرتا جس رنگ میں کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی میں ظاہر ہونگی مردوں کے زندہ کرنے والی صفت بھی انہی میں سے ہے۔ اگر فی الواقع مُردے زندہ ہو کر دنیا میں واپس آنے لگیں تو ایمان کا کوئی فائدہ نہ رہے کیونکہ ایمان تبھی تک نفع بخش ہے جب تک اس میں کچھ اخفاء ہے اور جب وہ مرتی چیزوں کی طرح ظاہر ہو جائے تو اس کا کچھ فائدہ نہیں ۔ کون ہے جو اس پر انعام دے کہ کوئی شخص سمندر کو سمندر اور سورج کو سورج سمجھتا ہے ۔ جو بار یک راز دریافت کرتے ہیں وہی انعامات کے بھی مستحق ہوتے ہیں۔ پس اصلی مردے دنیا میں واپس نہیں لائے جاتے ہاں یہ مردے زندہ کرنے کا نشان دو طرح ظاہر ہوتا ہے ۔ یا تو روحانی مُردوں کو زندہ کر کے یا پھر ایسے بیماروں کو زندہ کر کے جن کی حالت جان کندن تک پہنچ گئی ہو ۔ یا بظاہر مر گئے ہوں مگر در حقیقت مرے نہ ہوں۔ جیسا کہ حضرت مسیح نے اس عورت کی نسبت جس کا ذکر متی باب 9 میں آتا ہے کہا کہ ۔ کنارے ہو کہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہے ۔ وے اس پر ہنسے ۱۲۰ روحانی مردے زندہ کرنے کے متعلق مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم میں سے ہر اک اس کی زندہ مثال ہے مگر میں دوسری قسم کے احیاء کی دو مثالیں اس جگہ بیان کرتا ہوں۔