انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 199

انوار العلوم جلد ۸ ۱۹۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اپنے لئے خدا کی رحمت کا دروازہ بند کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ یہ اسی تلوار سے مارا جائے جو یہ مسیح موعود کے خلاف چلاتا ہے اور اس نے آپ کو وحی کی إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ تیرا دشمن جو تیری نسبت کہتا ہے کہ تیری نسل قطع ہو جائیگی اس کی نسل قطع ہو گی اور وہ بے نسل رہ جائے گا۔ اب یہ عجیب بات ہے کہ جب یہ الہام آپ کو ہوا تو اُس وقت اس شخص کے ہاں ایک لڑکا پہلے سے موجود تھا جس کی عمر چودہ سال کے قریب تھی اور یہ مولوی ابھی جو ان ہی تھا اور اولاد کا سلسلہ آئندہ منقطع ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ مگر اس نے جو خالق ہے اس الہام کے بعد اس مشخص سے اپنی صفت خلق کا سایہ ہٹالیا اور باوجود اس کے کہ اس شخص کی عمر ابھی تھوڑی ہی تھی اس کی نسل کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور گو وہ اس پیشگوئی کے بعد چودہ سال تک زندہ رہا مگر اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی اور آخر جنوری ۷ ۱۹۰ء میں اس پیشگوئی کو سچا کرتا ہوا مر گیا۔ اگر نشان اس حد تک ہی رہتا تو بھی ایک بہت بڑا ثبوت خدا تعالیٰ کی خالقیت کا تھا مگر اللہ تعالی نے اس نشان کو اور بھی زیادہ کیا اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمنوں نے یہ دیکھ کر کہ آپ کا ایک نشان ظاہر ہو گیا ۔ ایک طرف تو شور مچانا شروع کیا کہ مرزا صاحب نے تو کہا تھا کہ سعد اللہ ابتر رہے گا لیکن اس کے تو ایک لڑکا موجود ہے اور دوسری طرف اس لڑکے کی شادی کی کوششیں شروع کر دیں تاکہ اس کی اولاد ہو جائے اور مرزا صاحب پر جھوٹ کا الزام آئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان حملوں کے جواب میں اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں لکھا کہ یہ لڑکا تو پیشگوئی سے پہلے ہی موجود تھا پس یہ لڑکا تو پیشگوئی کے خلاف نہیں ہو سکتا ہاں اگر اس کی اولاد ہو جائے تو بے شک اعتراض پڑ سکتا ہے مگر یہ یاد رکھو کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو گی اور سعد اللہ ضرور منقطع النسل ہو کر رہے گا چنانچہ آخر اسی طرح ہوا ۔ یعنی گو مولوی سعد اللہ کے لڑکے کی شادی کر دی گئی لیکن اس کے اولاد نہ ہوئی آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمنوں نے آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اس کی ایک اور شادی کردی کہ شاید اس سے اولاد ہو مگر باوجود اس کے بھی آج تک اس کے کوئی لڑکا نہیں ہوا۔ ایک جوان آدمی کی نسبت یہ لکھنا کہ اس کے اولاد نہ ہو گی ایک ایسا بڑا معاملہ ہے کہ انسان کی طبیعت اس کا خیال کر کے بھی گھبراتی ہے چنانچہ جب آپ نے اپنی کتاب میں یہ لکھا تو آپ کا ایک مرید جو وکیل تھا اور جس کا ایمان بوجہ کمی بصیرت کے ت کے کمزور تھا اور آر آپ کی وفات کے بعد اس