انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 193

انوار العلوم جلد ۸ ۱۹۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نفع اٹھا سکتے ہیں اور اس پر کیا یقین کر سکتے ہیں ؟ پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ جو بات اس قانون قدرت سے ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی خدا اس دنیا کا خالق ہونا چاہئے مگر ہونا چاہئے ایک ظن ہے یہ ا ہے یہ استدلال ہمیں یقین کے مقام تک ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک بات جس کا سبب ہمیں معلوم نہیں ہو تا ہم عقل سے اس کا ایک سبب دریافت کرتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل سبب اور ہی ہے اور ہمارے خیالات بالکل غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔ پس کیا یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ ہم چونکہ ابھی تک مادہ اور اس کی بناوٹ اور اس کی خصوصیات اور اس کے محرکات عمل سے پوری طرح واقف نہیں اس لئے یہ خیال کرتے ہوں کہ اس کارخانہ عالم کے چلانے کے لئے علاوہ قوانین قدرت کے کوئی اور مدبر بھی ہونا چاہئے لیکن در حقیقت مادہ کی بعض خصوصیات اور اس کے محرکات عمل ایسے ہوں جن کی وجہ سے وہ کسی بیرونی مدبر کا محتاج نہ ہو بلکہ خود بخود ہی سب کام کر سکتا ہو ؟ پس جب ایسے احتمالات موجود ہیں تو یہ دلیل ہمیں کب تسلی دے سکتی ہے ؟ تسلی وہی دلیل دے سکتی ہے جو ہونا چاہئے کے مقام سے بلند کر کے ہمیں ہے کے مقام تک پہنچادے اور شک و شبہ کا احتمال مٹادے اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفت خلق کا ہم اپنی آنکھوں سے مطالعہ کر لیں اور خود دیکھ لیں کہ وہ پیدا کرتا ہے ۔ مگر یہ یقین ہمیں کوئی مذہب دلانے کے لئے تیار نہیں سوائے حضرت مسیح موعود کے جو ہمیں اس یقین کے مقام تک پہنچاتے ہیں اور اس عرفان سے ہمیں حصہ دیتے ہیں آپ ہمیں یہ نہیں کہتے کہ مان لو کہ کوئی خدا ہے اور وہ خالق ہے بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ آؤ میں تمہیں خدا تعالی پیدا کرتا ہوا دکھادوں اور اس امر کا ا امر کا یقین دلا دوں کہ نیچر نہیں بلکہ نیچر کا پیدا کرنے والا خدا پیدا کرتا ہے اس قسم کے ثبوت جو آپ نے دیتے ہیں گو بہت سے ہیں مگر مثال کے طور پر میں دو تین پیش کر دیتا ہوں۔ یا د رکھنا چاہئے کہ کسی شخص کے کسی کام کا سبب ہونے کا مکمل ثبوت تبھی مل سکتا ہے جب ہم اس کی طاقت کا دو طرح نمونہ دیکھیں ایک تو یہ کہ جب وہ چاہے تو وہ کام ہو جائے اور دوسرے یہ کہ جب وہ نہ چاہے تو نہ ہو ۔ اگر صرف ایک پہلو ظاہر ہو۔ یعنی جب وہ چاہے تب وہ کام ہو جائے تب بھی ہمارے دل میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید اس کام کے مد بر ایک سے زیادہ ہوں اور وہ بھی اسی طرح اس کام کو کر سکتے ہوں ۔ پس جب ہم کہتے ہیں کہ یہ کام صرف فلاں شخص کر سکتا ہے تو ہمیں دو قسم کے ثبوت دینے چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ ہم ثابت کریں کہ اس کام کے کرنے پر وہ