انوارالعلوم (جلد 8) — Page 192
انوار العلوم جلد ۸ ۱۹۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ترکوں کو شام میں شکست ہوئی اور جنگ کا خاتمہ ہوا۔ مگر پھر ترکوں کو مصطفیٰ کمال پاشا کے ذریعہ قوت حاصل ہوئی اور جیسا کہ خبر دی گئی تھی انہوں نے اپنی گم شدہ عزت کا ایک حصہ واپس لیا۔ مگر سب سے زیادہ ہیبت ناک حصہ اس پیشگوئی کا وہ ہے جو زار روس کے متعلق ہے تمام بادشاہوں سے قطع نظر کر کے زار روس کی نسبت خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اس کی حالت زار ہوگی یعنی وہ صرف حکومت سے ہی علیحدہ نہیں کیا جائے بلکہ اور صدمہ بھی و بھی دیکھے گا یعنی نہ مرے گا اور نہ مارا جائے گا بلکہ زندہ رہے گا اور نہایت تکلیف دہ مصیبت میں مبتلاء رہے گا۔ کس طرح ایک ایک لفظ ایک ایک اشارہ اس پیشگوئی کا پورا ہوا ہے ؟ پہلے اس کی حکومت گئی لیکن اس کی جان بچائی گئی پھر ایک اور تغیر اور جنگی کے ساتھ کچھ دے دے کر اس کو مارا گیا۔ اسکی بیوی اور لڑکیوں کی اس کے سامنے ہتک کی گئی جبکہ وہ بالکل بے بس اور بے طاقت تھا۔ جسم ان مصائب کا خیال کرکے جو زار کو پہنچے کانپ جاتا ہے اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر ساتھ ہی اس خدائے علیم پر کس قدر یقین بڑھ جاتا ہے جس نے چودہ سال پہلے ان واقعات کی خبر دی تھی جب کہ ان واقعات میں سے بہتوں کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیا یہ واقعات اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ اسلام کا خدا علیم خدا ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو اسلام ہی وہ مذہب ہے جس کے ذریعہ سے علیم خدا کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے اور وہی وہ مذہب ہے جس کے ذریعہ سے انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر سکتا ہے۔ صفات الہیہ میں سے دوسری صفت جو ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر ہے اور جس پر اکثر مذاہب متفق ہیں وہ خلق کی صفت ہے۔ اکثر مذاہب دعویدار ہیں کہ وہ خدا جسے وہ پیش کرتے ہیں دنیا کا خالق ہے تمام انسان اور حیوان اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں ۔ ایک ایک ذرہ اس کا بنایا ہوا ہے مگر وہ کیا ثبوت ہے جسے وہ اس امر کی تائید میں پیش کرتے ہیں یقینا کوئی بھی نہیں ۔ ان کے دعوی کی صرف اس امر پر ہے۔ امر پر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ دنیا کا خالق نہیں تو پھر اور کون ہے ؟ مگر یہی دلیل د کے سامنے بھی موجود ہے وہ قوانین نیچر کا زیادہ گہرا واقف ہے کیونکہ اس کی دنیا اور اس کا دین صرف قوانین قدرت کا مطالعہ ہے وہ باوجود اس گہرے مطالعہ کے پھر اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ بناء صر ادہریہ سبب کارخانہ قدرت آپ ہی آپ چل پ ہی آپ چل رہا ہے۔ تو جب وہ لوگ جو اپنی عمر کو قانون قدرت کے مطالعہ پر ہی خرچ کرتے ہیں اس کی رہنمائی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تو دوسرے لوگ اس سے کیا