انوارالعلوم (جلد 8) — Page 170
انوارالعلوم جلد ۸ ۱۷۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میری مراد یہ نہیں کہ وہ خیال کی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے جیسا کہ وہ لوگ جو اپنے دماغ کو خاص قسم کی مشقوں میں لگا دیتے ہیں کبھی کبھی خیال کر لیتے ہیں بلکہ میری مراد حقیقتاً دیکھنے سے ہے جس طرح کہ ہم سورج کو دیکھتے ہیں یا چاند کو دیکھتے ہیں یا اور چیزوں کو دیکھتے ہیں حتی کہ ہمیں ان کے وجود میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اگر دس کروڑ آدمی بھی ہمارے پاس آکر کہے کہ سورج حقیقتاً ہمارے سامنے نہیں آتا بلکہ ہمیں خیال ہو جاتا ہے کہ سورج سامنے ہے تو ہم یہ سمجھیں گے کہ یہ دس کروڑ آدمی پاگل ہو گیا ہے مگر یہ کبھی خیال نہیں کریں گے کہ ہم نے سورج کو نہیں دیکھا اس لئے کہ ہم سورج کو ان طریقوں سے دیکھ چکے ہیں کہ جن طریقوں سے دیکھنے کے بعد شک پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ خیال اور واقع میں یہ فرق ہوتا ہے کہ خیال میں عام طور پر صرف ایک حسن شامل ہوتی ہے اور علم میں کئی حسیں شامل ہوتی ہیں ۔ مثلاً جب کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ فلاں جگہ ایک شخص کھڑا ہے لیکن وہ فی الواقع کھڑا نہیں تو اگر وہ اس شخص کو پکڑنے کے لئے ہاتھ مارے گا تو اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ اس کی غلطی تھی کیونکہ اس کے ہاتھ کو کچھ محسوس نہ ہو گا۔ مگر جب وہاں فی الواقع کوئی شخص کھڑا ہو گا تو قوت لامسہ بینائی کی طاقت کی تائید کرے گی اور اس کو ہاتھ ا مارنے سے کوئی ٹھوس چیز محسوس بھی ہوگی۔ گو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ واہمہ کئی حسوں پر بھی قبضہ کر لیتا ہے مگر یہ حالت جنون کی ہوتی ہے جس کا نقص خود ہی ظاہر ہو جاتا ہے ۔ باد مگر اس دھوکے دھوکے کی کی اء اصلاح کا بھی ایک راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو وہم ہو تو وہ اپنے وہم کے ماتحت خواہ خود کچھ بھی دیکھے مگر وہ دوسروں کو وہ چیز نہیں دکھا سکتا لیکن جب حقیقت ہوتی ہے تو وہ دوسروں کو بھی اس کا نشان دکھا سکتا ہے پس جب میں کہتا ہوں کہ اسلام یعنی احمدیت خدا تعالیٰ سے انسان کو ملا دیتی ہے تو اس سے مراد میری قوت واہمہ کا عمل نہیں کہ اس کے ذریعہ سے تو آج بھی ہر ایک مذہب کے پیرو خدا سے مل رہے ہیں بلکہ میری مراد ایسی ہی یقینی ملاقات سے ہے جیسی کہ یقینی چیزیں ہوا کرتی ہیں یعنی کئی حواس اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے اثر لوگوں کو بھی دکھائے جاسکتے ہیں۔ مگر یہ بات ضرور ہے کہ رؤیت عرفان کی ہوتی ہے نہ کہ جسمانی آنکھ کی۔ اس امر کے ثبوت میں کہ اسلام سوال زیر بحث کا جواب اثبات میں دیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ملا دینے کا دعویٰ کرتا ہے مفصلہ ذیل آیات پیش کی جاسکتی ہیں۔ قرآن کریم کے شروع میں اللہ