انوارالعلوم (جلد 8) — Page 169
انوار العلوم جلد ۸ ۱۶۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تھا تو وہ کیا کرے ؟ اور اگر بالفرض یہی بات ہو کہ نہ خدا ہے نہ کوئی زندگی مابعد الموت تو بھی اس شخص کی زندگی ایک وہم کی نذر ہوئی ۔ اس امر کا دعوئی تو ہر مذہب کو ہے کہ بعد الموت خدا اس کے ذریعہ سے مل جائے گا لیکن ایسے بڑے اہم معاملہ کو کوئی شخص حسن ظنی پر کس طرح چھوڑ سکتا ہے؟ جو کچھ لوگوں کو بتایا جاتا ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ تم کو چاہئے کہ یوں کرو اور یوں کرو لیکن اصل میں تو اس امر کی ضرورت ہے کہ ہمارے ان افعال کے مقابلہ میں اللہ تعالی کیا کرے گا؟ ہمارے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دروازہ پر دستک دے مگر سوال یہ ہے کہ جیسا کہ اس مقدس وجود نے جس نے آج سے انیس سو سال پہلے دنیا کو اپنی کرنوں سے منور کر دیا تھا اشارہ کیا ہے کہ وہ دروازہ ہمارے لئے کھولا بھی جائے گا ؟ اگر وہ دروازہ کھولا نہیں جائے گا اور اگر ہماری دستک اس قسم کا اشارہ نہیں رکھتی جس پر دروازہ کھولا جاتا ہے تو بتانے والے نے کیا بتایا؟ یونہی شور تو ہم خود بھی بغیر کسی کی دستگیری کے مچاسکتے تھے اس نے تو صرف یہ پوری ہونے والی امیدیں ہمارے دلوں میں پیدا کر کے ہمیں اور بھی تڑپا دیا ۔ اس کے بتانے کا فائدہ تو تب تھا کہ جب وہ ہمیں وہ اشارہ سکھاتا جس پر دروازہ کھل جاتا اور اسی دنیا میں کھل جاتا تاکہ پیشتر اس کے کہ ہمارے لئے واپس لوٹنے کا راستہ نہ رہے ہمیں یہ تسلی ہو جاتی کہ ہم صحیح راستہ پر چل رہے ہیں۔ اے بہنو اور بھائیو! ربھائیو! خواہ تم کسی ملک کے ہو میں آپ کو آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ اسلام یا دوسرے لفظوں میں احمدیت اس امر کا دعوی کرتی ہے کہ وہ اس اشارہ کو سکھاتی ہے جس سے دروازہ کھولا جاتا ہے۔ نہیں نہیں وہ اس سے بڑھ کر اس امر کی مدعی ہے کہ وہ پہلے بھی کئی لوگوں کو اس کام میں پورا اتار چکی ہے۔ کئی ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے احمدیت کے ذریعہ سے دروازہ کھولا ہے اور وہ اسی زندگی میں اُن کو مل گیا ہے ۔ پس اگر آپ لوگ اس کی ملاقات کے متلاشی ہیں تو اس کی طرف آئیں کہ وہ آپ کی اس خواہش کو پورا کرے گی الا مَا شَاء الله پیشتر اس کے کہ میں اس امر کی تشریح کروں کہ احمدیت کس طرح خدا تعالیٰ سے ملاتی ہے میں یہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خدا سے ملانے سے کیا مراد ہے ؟ سو یا د رکھنا چاہئے کہ خدا سے ملنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی مادی وجود ہے جس کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے بلکہ اس سے مراد یہ امر ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کو روحانی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے مگر جب میں کہتا ہوں کہ روحانی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو اس سے بھی