انوارالعلوم (جلد 8) — Page 158
انوار العلوم جلد ۸ ۱۵۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کہ اپنے بھائیوں سے اور رشتہ داروں سے محبت کرنی چاہئے انہی ظاہری تعلقات کو دیکھ کر سیکھتے ہیں جو وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے برتاؤ سے معلوم کرتے ہیں۔ اگر محبت اور غضب کے جذبات صرف قلب میں مخفی ہوتے تو کبھی بھی یہ عام رشتہ محبت کا جو رشتہ داروں میں پایا جاتا ہے پایا نہ جاتا کیونکہ دل کے خیالات کسی پر ظاہر نہیں ہوتے۔ بچہ کس طرح معلوم کر سکتا تھا کہ فلاں فلاں شخص سے میرے والدین کو یا دوسرے عزیزوں کو محبت کا تعلق ہے اور فلاں فلاں سے ان کو عداوت ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ سب ظاہری علامات سے ہی اسے معلوم ہوتا ہے اور اس طرح یہ جذبات نسلاً بعد نسل محفوظ چلے جاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کے اظہار کی ظاہری علامات نہ مقرر کی جائیں اور اس کی شان اور اس کے رتبہ کا اقرار کسی جسمانی علامت سے نہ کیا جائے اور متواتر نہ کیا جائے تو یقینا آئندہ نسلوں کے دلوں میں جنہوں نے پہلے نقوش اپنے ماں باپ کے حالات سے لئے ہیں وہ محبت اور اخلاص خدا تعالیٰ کی نسبت پیدا نہیں ہو سکتا جو اس صورت میں ہو سکتا ہے اگر وہ بعض ظاہری علامات کو روز دیکھتے اور ان کے اثر کو قبول کرتے ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن قوموں میں ظاہری عبادات کی طرف سے بے رغبتی ہو رہی ہے ان میں دہریت اور خدا تعالٰی سے بے پروائی کے خیالات بھی کثرت سے پھیلتے جاتے ہیں۔ پھر ایک فائدہ ظاہری عبادات کا یہ ہے کہ اس ذریعہ سے وہ تمام حصے انسان کے جو خدا تعالیٰ کے احسانوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اس ۔ اس کے احسانوں کا شکریہ ادا کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ خدا تعالی کا احسان جسم پر بھی ہے او روح پر بھی ہے۔ پس جب عبادت میں جسم اور روح دونوں کو شامل کر لیا جاتا ہے تو وہ عبادت مکمل ہو جاتی ہے بغیر اس کے وہ ادھوری رہتی ہے اور کبھی محفوظ نہیں رہ سکتی کیونکہ قلبی عبادت مغز کی طرح ہے اور مغز کبھی بغیر چھلکے کے محفوظ نہیں رہتا۔ چھلکا خود مقصود نہیں ہوتا مگر مغز کے قائم رکھنے کے لئے وہ بہت ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص چھلکے کو لغو سمجھ کر پھینک دے تو وہ در حقیقت مغز کو بھی خراب کر دے گا۔ اس امر کو ثابت کر چکنے کے بعد کہ ظاہری عبادت بھی روحانیت کے قیام کے لئے ضروری ہے اب میں ان عبادات کا ذکر کرتا ہوں جو اسلام نے اپنے متبعین کے لئے مقرر فرمائی ہیں ۔ سب سے بڑی عبادت تو نماز ہے جو گویا اسلامی عبادتوں کی جان ہے ۔ پانچ وقت ایک مسلم کے لئے یہ فرض ہے کہ وہ خدا تعالی کے سامنے کھڑا ہو کر ان مقررہ قواعد کی رو سے جو اس کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اللہ تعالٰی کی عبادت کرے ۔ پہلے وہ وضو کرتا ہے۔ یعنی ایک مقررہ طریق پر ہاتھ اور پاؤں