انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xix

۱۲ دسمبر ۱۹۲۴ء کو شائع کیا گیا۔ حضور نے ابتداء میں جماعت کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ ۱۸۸۹ء میں حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اس کی بنیاد رکھی۔ مسیح و مہدی اور موعود مصلح اقوام عالم ہونے کا دعوی کیا۔ ابتداء میں آپ کو تمام مذہبی جماعتوں اور فرقوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ہر قسم کی مخالفت کے باوجود لوگوں کے قلوب سلسلہ احمدیہ کی طرف کھینچے جانے لگے اور ۱۹۰۸ء میں آپ اپنے مقد آپ اپنے مقصد میں کامیاب و کامران اس و اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ اس وقت آپ کے پیرؤوں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت حکیم مولانا نور الدین صاحب آپ کے جانشین منتخب ہوئے اور ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے منصب امامت عطا فرمایا اور آج اللہ تعالی کے فضل سے دنیا کے مختلف ممالک میں جماعت احمد یہ قائم ہو چکی ہے۔ احمدیت کوئی نئی چیز پیش نہیں کرتی بلکہ حقیقی اسلام کو اس کی اصلی صورت میں پیش کرتی ہے۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے دعوی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ حضرت عیسی علیہ السلام کی صفات کے حامل وجود ہیں اور مسیح کی آمد ثانی کے متعلق زمینی و آسمانی نشانات و پیشگوئیاں اور زمانے کے تقاضے آپ کے وجود میں پورے ہوئے۔ حضور نے فرمایا کہ کامل اخلاق کے بغیر کامل روحانی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اخلاق کے متعلق حیرت انگیز اصل پیش کیا۔ اخلاق کی تعریف بیان کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ مناسب موقع پر تمام طبعی جذبات کا ارادہ یا قصدا استعمال کرنا اور نامناسب موقع پر ان کو دبالینا اصل اخلاق ہیں۔ دوسرا اصل اخلاق کے متعلق یہ ہے کہ مذہب ہر ایک اخلاقی قوت کے استعمال کیلئے مناسب موقع بتانے کے علاوہ بُرے اور اچھے اخلاق کے مختلف مدارج بھی بیان کرے۔ تیسرا اصل یہ کہ مذہب کو ان وجوہ کی تشریح کرنی چاہئے جن پر اس کے احکام اخلاق کی بناء ہے۔ اخلاق کے متعلق چوتھا اصل یہ ہے کہ مذہب کیلئے ضروری ہے کہ نیکی اور بدی کے منبع کا علم دے یعنی بتائے کہ بدی کی طرف میلان کی راہوں کو کس طرح بند کیا جائے اور نیکی کی راہوں کو کس طرح کھولا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ثابت کیا کہ قرآن کریم نے انسانی اخلاق کی نشوو نما کی ان تمام صورتوں کی وضاحت فرمائی ہے اور اسلام کی پیش کردہ اخلاقی تعلیم :