انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xviii

11 کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض پیشگوئیاں پوری ہوں گی اور اس بارہ میں آپ کو بھی آپ کو بھی رؤیا دکھائی گئی ہیں۔ آپ نے اپنے اس بیرونی سفر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ " ہماری جماعت کا کام ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنا ہے اور چونکہ ساری دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لانا ہمارا فرض ہے۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق ہم ایک مکمل نظام تجویز کریں ۔۔۔۔۔۔۔ اس نظام کے مقرر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خلیفہ مغربی ممالک کے حالات کو وہاں جا کر دیکھے ۔۔۔۔۔ اور وہاں کے ہر طبقہ کے لوگوں سے مشورہ کر کے ایک سکیم تجویز کرے۔ پس ان ضروریات کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی کانفرنس کی تحریک کو ایک خدا کی تحریک سمجھ کر اس وقت با وجود مشکلات کے اس سفر کو اختیار کروں۔ مذہبی کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک کے لئے ایک مستقل حکیم تجویز کرنے اور وہاں کے تفصیلی حالات سے واقف ہونے کے لئے ۔ کیونکہ وہ ممالک اسلام کے راستہ میں ایک دیوار ہیں جس دیوار کا توڑنا ہمارا مقدم فرض ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بڑے بڑے کام بڑی قربانیاں چاہتے ہیں۔ وہ مذہب جو ایک ملک میں بند رہتے ہیں کبھی دنیا میں غالب نہیں آتے۔ مذاہب کی ترقی کا راز ان کا دنیا میں پھیل جانا ہے۔ ایک تھوڑی تعداد رکھنے والے لیکن دنیا میں پھیلے ہوئے مذہب کے لئے زیادہ موقع ہے کہ وہ دنیا میں پھیل جائے یہ نسبت اس مذہب کے جس کی تعداد زیادہ ہے لیکن وہ ایک ملک سے تعلق رکھتا ہے۔“ مجمع البحرين ۱۹۲۴ء کی مشہور مذہبی ویمبلے کانفرنس جو ایمپیریل انسٹی ٹیوٹ لندن میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۴ مئی تا ۶ جون ۱۹۲۴ء جو مضمون تحریر فرمایا وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام" کے نام سے شائع شدہ ہے۔ اس کانفرنس کیلئے چونکہ منتظمین کی طرف سے محدود وقت مقرر تھا اس لئے اس موقع پر اس کتاب کا خلاصہ (۲ تا ۹ جولائی ۱۹۲۴ ء کوتیار کیا گیا) وہاں پیش کیا گیا جو بعد میں کتابی صورت میں " مجمع البحرین " کے نام سے ۲۶