انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 152

انوار العلوم جلد ۸ ۱۵۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام وَعَلَى جُنُوبِهِمْ اے مومن وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔ کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور لیٹے ہوئے بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں ایسی گھر کر جاتی ہے کہ وہ بار بار اس کی ملاقات اور اس کے قرب کی خواہش کرتا ہے اور جس طرح ایک عاشق اپنے معشوق کو ہر وقت یاد کرتا رہتا ہے اس سے بھی زیادہ ایسا انسان اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہتا ہے۔ اس کے احسانات اور اس کی خوبیاں اور اس کے قرب کی تمنا اور اس سے ایک ہو جانے کی خواہش اس کے دل میں بار بار جوش مارتی رہتی ہے حتی کہ دن کو کام کے وقت یا آرام کی خاطر بیٹھنے کے وقت یا رات کو سوتے وقت بھی اس کی طرف بندہ کی توجہ پھرتی رہتی ہے ۔ اسی طرح فرماتا ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ أيْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، مو من صرف وہ لوگ ہیں جن کے دل پر خدا تعالیٰ کا ایسا رعب ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا نام ان کی مجلس میں آجائے تو ان کے دلوں میں خشیت اللہ کی ایک لہر پیدا ہو جاتی ہے اور جب اللہ تعالی کا کلام ان کے سامنے پڑھا جائے تو ان کا دل ایمان سے بھر جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں یعنی ہر اک کام کا انجام پانا اس کی مدد پر موقوف سمجھتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کو اس کے فضل پر منحصر خیال کرتے ہیں۔ یار میں اس جگہ ایک شبہ کا ازالہ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں جو عام طور پر اسلام کی نسبت کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ اسباب سے انسان کو کوئی کام ہی نہیں لینا چاہئے اور اپنے کام خدا پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض لوگوں میں ایسے خیالات پائے جاتے ہیں مگر اسلام کی ہر گز یہ تعلیم نہیں تمام قرآن ان آیات سے بھرا ہوا ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم نے انسان کے فائدے کے لئے پیدا کی ہیں ۔ پس ان کو ترک کرنا اس کے منشاء کے مطابق کس طرح ہو سکتا ہے اور ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَآتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ، اور ہر کام کے لئے ہم نے جو طریق مقرر کئے ہیں ان کے ذریعہ سے وہ کام کرو یعنی اسباب اور ذرائع بھی اللہ تعالی کے پیدا کردہ ہیں انہی کے ذریعہ سے کام کرنا چاہئے۔ اور فرمایا خُذُوا حِذْرَكُم اے مسلمانو ! تمام وہ سامان جن سے کامیابی ہو سکتی ہے اپنے پاس رکھو اور ایک جگہ فرمایا ہ جب سفر کو نکلو تو اپنے پاس سفر کا سامان ضرور رکھا کرو اسی طرح رسول کریم کی نسبت آتا ہے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تو نے اونٹ کس کے حوالے کیا ہے اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے خدا پر توکل کر کے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ ۷۴ وَتَزَوَّدُوا ۷۵