انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 151

انوار العلوم جلد ۸ ۱۵۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام 6 ہمارا عهده نه باعث ہے اور ہماری آئندہ زندگی بھی اس کے فضل سے وابستہ ہے۔ اس سے بڑھ کر نہ ہمارے والدین ہو سکتے ہیں : ہیں نہ ہماری اولاد نہ ہمارے بھائی نہ ہماری بیویاں نہ ہمارے خاوند نہ ہمارے دوست نہ ہمارے اہل ملک : اہل ملک نہ ہماری حکومت نہ ہمارا ملک نہ ہماری جائداد نه همار ہماری عزت نہ خود ہماری جان کیونکہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے عطیوں کا ایک جزو ہیں اور وہ اس گل کا معطی ہے۔ در حقیقت ان ان صفات کو بیان بیان کرنے کے بعد: بعد جو اوپر بیان ہو ہو چکی ہیں وہی مذہب سچا ہو سکتا ہے جو انسان سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے ادب کو سب چیزوں کی محبت اور سب حاکموں کے ادب پر فوقیت دے اور خدا کی رضا کے لئے سب چیزوں کو قربان کرنا پڑے تو کر دے مگر خدا کی رضا کو کسی اور چیز پر قربان نہ کرے ۔ وہ اس امر کا مطالبہ کرے کہ خدا تعالی کی محبت انسان کے دل میں سب چیزوں سے زیادہ ہونی چاہئے اور اس کی یاد سب پیاروں کی یاد سے بڑھ کر ہونی چاہئے۔ اس کے وجود کو ایک دور کے ملک کے پہاڑیا دریا کی طرح عالم موجودات کا ایک فرد نہیں سمجھ چھوڑنا چاہئے بلکہ اس کو ہر ایک زندگی کا سرچشمہ اور ایک امید کا مرکز اور ہر ایک نظر کا مطلح بنانا چاہئے۔ اسلام کی تعلیم دیتا ہے ۔ قرآن کریم فرماتا ہے قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةً تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ ۔ اے ہمارے رسول ! کہہ دے اگر تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد اور تمہارے بھائی بہنیں اور تمہاری بیویاں یا تمہارے خاوند یا تمہاری قوم یا تمہارے مال جن کو تم محنتوں سے کماتے ہو۔ یا تمہاری تجارتیں جن میں نقصان ہو جانے کا تمہیں خطرہ ہوتا ہے یا تمہارے گھر جن کو تم پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی رضا کے لئے کوشش کرنے کی نسبت تمہیں زیادہ پیارے ہیں تو تم مومن نہیں ہو ۔ تم انتظار کرو اس وقت کا جب خدا تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے اور اللہ عہد شکن لوگوں کو کامیاب نہیں کرتا۔ ایک مسلمان ہرگز مسلمان نہیں کہلا سکتا جب تک اس کا اللہ تعالیٰ سے ایسا ہی تعلق نہ ہو جو اس آیت میں بیان ہوا ہے ۔ اسے خدا کی رضا کے لئے ہر ایک دیگر چیز اور ہر ایک دوسرے جذبہ کو قربان کر دینا چاہئے ۔ اس کی محبت ہر ایک دوسری چیز پر اسے مقدم ہونی چاہئے۔ ایک دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ محبت الہی کی علامت کا اس طرح ذکر فرماتا ہے الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَا مَا وَقُعُودًا