انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 141

انوار العلوم جلد ۸ ۱۴۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام مخصوص نہیں۔ جس طرح اس کا دنیاوی سورج دنیا کے ہر گوشہ پر چڑھتا ہے اسی طرح اس کے کلام کا سورج بھی ہر قوم کو منور کرتا ہے۔ کرتا ப اس جگہ یہ شبہ پیدا کیا جاسکتا ہے کہ اگر ساری دنیا میں مذاہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں تو پھر کیوں نہ سب کو ہی سچا سمجھ لیا جائے اور کیوں نہ یہ مانا جائے کہ جس مذہب پر چل کر کوئی خدا کو پانا چاہے پا سکتا ہے ؟ اس شبہ کا جواب بھی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْ سَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ الأَلِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيْهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لقَوْمِ يُؤْمِنُونَ - ترجمہ - ہمیں اپنی ذات کی ہی قسم ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر امتیں گذر چکی ہیں سب کی طرف رسول بھیجے تھے مگر بعد میں لوگوں نے جو حق سے دور تھے ان کو اور کاموں میں ڈال دیا اور آج ایسے ہی لوگ ان کے دوست ہیں اور ان کو درد ناک عذاب پہنچے گا اور ہم نے تیری طرف کتاب نہیں بھیجی مگر صرف اس لئے کہ تو ان کے سامنے ان امور کو بیان کرے جن میں کہ ان کے خیالات حق کے خلاف ہو گئے ہیں اور تاکہ وہ کتاب مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ ۶۰ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول کریم ال کی آمد سے پہلے ہی تمام پہلی کتب اور تعلیمیں مخلوط ہو گئی تھیں اور دوسرے لوگوں کے خیالات اور وساوس ان کے اندر شامل ہو گئے تھے۔ پس باوجود اس کے کہ ان کی اصل خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور اپنی موجودہ صورت میں قابل عمل نہ رہے تھے اور ان پر اس امر میں اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ ایک متلاشی کو خدا تک پہنچا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق یہ بھی ایک سوال ہے کہ جس کا حل کرنا مذ ہبی کتب کا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتا؟ اب یہ کہہ دینا تو آسان ہے کہ ایک خدا ہے لیکن یہ مشکل ہے کہ خدا تعالی کی مختلف صفات کو ثابت کیا جائے۔ قرآن کریم اس ذمہ داری کا اقرار کرتا رتا ۔ ہے خدا تعالی کی مختلف صفات کا ثبوت دیتا ہے مثلاً اسی امر کے متعلق کہ خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا فرما تا ہے۔ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " - خدا تعالیٰ کو انسانی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں لیکن وہ خود انسانی آنکھوں کے پاس آتا ہے تاکہ وہ اسے دیکھیں اور وہ نہایت لطیف ہے کہ آنکھ اس کے دیکھنے سے قاصر ہے اور بندے کی حالت سے بھی خبردار ہے ۔