انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 132

انوارا العلوم جلد ۸ ۱۳۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی صداقتیں جو دنیا سے مفقود ہو چکی تھیں دوبارہ ان کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور بہت سی صداقتیں جو اس زمانہ سے خاص ہیں پہلے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھیں ان کو ظاہر کیا گیا اور بہت سے علوم قرآنیہ جو الفاظ کے نیچے مدفون چلے آتے تھے ان کو نکال کر علمی دنیا کو مالا مال کر دیا گیا ہے۔ پس جب میں اپنے مضمون میں یہ کہوں کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے تو اس سے مراد وہی تعلیم ہوگی جو احمدی نقطہ نگاہ کے مطابق ہے خواہ دوسرے لوگ اس کو قبول کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں اور جب میں یہ کہوں کہ احمدیت کی یہ تعلیم ہے تو اس سے مراد بھی وہ تعلیم ہو گی جو اسلام نے پیش کی ہے نہ کوئی جدید تعلیم ۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں ان تعلیمات اور خصوصیات کو بیان کروں جو احمدیت کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کر دیتی ہیں میں تمہیدا اس امر کو بیان کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ گوبانیان مذہبی کا نفرنس کی اس کانفرنس کے قیام سے کچھ بھی غرض ہو میرے نزدیک ایسی کانفرنس کی سب سے بڑی غرض کہیں ہونی چاہئے کہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو اس امر کے موازنہ کرنے کا موقع ملے کہ کونسا مذہب ان کو اس مقصد کے حصول میں محمد ہو سکتا ہے جس مقصد کے لئے مذہب کی جستجو کی جاتی ہے۔ پس گو یہ ضروری نہیں کہ ان مضامین میں جو اس موقع پر پڑھے جاتے ہیں ہر اک حکم کو بیان کیا جائے مگر یہ ضروری ہے کہ ہر مذہب کی اصولی تعلیم کا ایک مختصر مگر مکمل نقشہ پیش کر دیا جائے جس سے لوگ اس امر کا اندازہ کر سکیں کہ اس مذہب میں تمام اہم ضروریات کو پورا کرنے کے سامان موجود ہیں اور صرف چند باتوں کو لے کر ان پر زور نہیں دے دیا گیا۔ دوسرا امر اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر اک مذہب کے قائم مقام اپنے مذہب کو پیش کریں نہ کہ اپنے خیال کو ۔ اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو کبھی حق کو نہیں پاسکیں گے خیالات کوئی مادی اور ٹھوس چیز نہیں ہیں جن کو مختلف مذاہب کے پیرو تالوں میں بند کر کے رکھ چھوڑیں۔ جس وقت کسی خیال کا اظہار کیا جاتا ہے وہ ملک عام ہو جاتا ہے جو چاہے اس کو اختیار کرلے اور استعمال کرے۔ پس اگر ایسا کوئی علاج نہ نکالا جائے جس کے ذریعہ سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ خیالات جن کو کسی مذہب کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے وہ فی الواقع اسی کے ہیں اور لیکچرار نے ان خیالات کو دوسرے لوگوں سے مچھر ایا نہیں کبھی بھی مذاہب کا فیصلہ کرنے میں آسانی نہ ہوگی اور نہ صحیح موازنہ ہو سکے گا اور نہ کوئی نتیجہ نکلے گا بلکہ ان لوگوں کو نقصان پہنچے گا اور وہ خیال کرنے لگیں گے کہ سب مذاہب ایک سے ہیں حالانکہ صرف ایک مذہب میں وہ سچائی ہو گی