انوارالعلوم (جلد 8) — Page 131
انوار العلوم جلد ۸ ۱۳۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام رسول کریم اللہ کے زمانہ میں قائم کی گئی تھی اور جسے اللہ تعالٰی ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہتا ہے محفوظ رہے اور جدید ضروریات کا سامان بھی مہیا ہو تا رہے۔ مذکورہ بالا حقیقت کے معلوم ہونے کے بعد اس امر کا سمجھنا بالکل آسان ہے کہ باوجود قرآن پر ایمان لانے کے اور مسلمان کہلانے کے احمد یہ جماعت موجودہ مسلمان فرقوں میں سے ایک فرقہ ان معنوں میں کہ جن معنوں میں عرفاً فرقہ کا لفظ بولا جاتا ہے نہیں ہے بلکہ وہ اپنے دعوئی کے مطابق آج سے تیرہ سو سال پہلے کا اسلام پیش کرنے والی جماعت ہے جو قرآن کریم کے غیر محدود علوم کا انکشاف کر کے اپنے دوسرے بھائیوں کو ان سے حصہ دینے کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ اس کا وجود کسی خاص خیال کی ارتقائی ترقی کا نتیجہ نہیں ہے نہ کسی خاص فرقہ کی طبعی رو کی آخری موج بلکہ وہ ایک نیا اُبال ہے جس نے دو سمت کا رخ کیا ہے ایک لہر اس کی تو ماضی کی طرف شدت سے نکل گئی ہے اور آج سے تیرہ سو سال پہلے کے زمانہ تک چلی گئی ہے اور دوسری لہر اس کی موجودہ اور آئندہ زمانوں کی ضروریات کا احاطہ کرتی ہوئی نکل گئی ہے۔ یہ ایک ایسی لر ہے جس نے صرف مشرق اور مغرب کو ہی نہیں ملایا بلکہ ماضی اور مستقبل کو بھی ایک جگہ جمع کر دیا ہے اور اب ہم بلا شبہ اور شک کے کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ال جن پر آخری اور مکمل شریعت نازل ہوئی آدم تکمیل شریعت تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کو اللہ تعالی نے علوم قرآنیہ کی وسعت اور ہر زمانہ کی ضروریات کے علاج پر مشتمل ہونے کی حقیقت کے اظہار کے لئے بھیجا ہے وہ آدم تکمیل اشاعت تھے جس طرح کہ پہلا آدم تکمیل انسانیت تھا۔ اس احمدی عقیدہ کا بیان کر دینا میرے مضمون کے لئے نہایت ہی ضروری تھا کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے احمدیت کسی جدید مذہب کا نام نہیں ہے اگر بلا اس تشریح کے میں احمدیت کی تعلیم اور اس کے اصول کو بتاتا تو چونکہ وہ قرآن کریم پر مبنی ہوتے آپ لوگوں کے لئے اس امر کا سمجھنا مشکل ہو جاتا کہ میں احمدیت کا ذکر کر رہا ہوں یا اسلام کا حالانکہ جیسا کہ آپ لوگوں نے اب معلوم کر لیا ہو گا احمدیت اور اسلام ایک ہی چیز کا نام ہے اور احمدیت سے مراد صرف وہ حقیقت اسلام ہے جو اس زمانہ کے موعود کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمائی ہے۔ پس احمدیت کی تمام بناء قرآن کریم اور شریعت اسلام پر ہے مگر باوجود اس کے احمدیت دوسرے مسلمان فرقوں سے بالکل مختلف ہے کیونکہ احمدیت اپنی تعلیم میں ان خیالات سے جو اس وقت مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں رائج ہیں بالکل مختلف ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت