انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 88

انوار العلوم جلد ۸ لفظ مسلم کے دائرہ کے اندر آجاتا ہے۔ ۸۸ اساس الاتحاد جب تک جملہ فرق اسلام اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں غیر مذہب کا سلوک ان سب سے ایک ہی طرح کا ہو گا وہ سیاستاً ان میں کوئی امتیاز نہیں کریں گے اور جب تک دنیا سیاسی معاملات میں ہر فرقہ سے جو مسلمان کہلاتا ہے سیاستاً ایک سا سلوک کرے گی اس وقت تک اسلام کی اس تعبیر کو جو اوپر بیان ہوئی ہے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بغیر اس فرق کے سمجھنے کے نہ باہمی امن ہو سکتا ہے نہ باقی دنیا کے مقابلہ میں اسلامی حقوق کی حفاظت کی جاسکتی ہے پس مسلم لیگ کے یہ معنے نہیں کئے جاسکتے کہ ان مسلمانوں کی انجمن جن کو بعض خاص فریق کے علماء مسلمان کہتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ان تمام لوگوں کی انجمن جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کسی اسلام سے پہلے یا اسلام کے ناسخ دین کے قائل نہیں۔ سیاسی معاملات میں جب تک کہ اختلاف کی بنیاد مذہب کی بجائے سیاست پر نہ رکھی جائے گی اس وقت تک ہرگز امن نہیں ہو سکتا پس ضروری ہے کہ مسلم لیگ کے دروازے ہر ایک اس فرقہ کے لئے کھلے ہوں جو اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے خواہ اس کو دوسرے فرقوں کے لوگ مذہبی نقطہ نگاہ سے کافر ہی سمجھتے ہوں اور اس کے کفر پر تمام علماء کی مہریں ثبت ہوں۔ اس امر کے بیان کر دینے کے بعد کہ مذہبی طور پر کون کون سے فرقے اس لیگ میں شامل کئے جانے چاہئیں اب میں پھر اصل مضمون کو لیتا ہوں کہ جب ایک مسلم لیگ کی ضرورت ہے نہ کہ کسی خاص سیاسی نقطۂ نگاہ کی پابند جماعت کی تو ہمیں مسلم لیگ کے قواعد بھی ایسے ہی بنانے چاہیں جو ہمیں کسی خاص سیاسی نقطہ نگاہ کا پابند نہ بناتے ہوں بلکہ اس کے قواعد کو ایسا وسیع بنانا چاہئے کہ ہر سیاسی نقطہ نگاہ کے لوگ اس میں شامل ہو سکیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ انجمن سب مسلمانوں کی نمائندہ نہیں بن سکے گی اور صرف ایک خاص قسم کے خیالات کی پابند جماعت کی نمائندہ ہو گی پس اس کو تمام مسلمانوں کی نمائندہ مجلس بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے دروازے ہر ایک خیال کے لوگوں کے لئے کھلے رکھے جائیں اور اس کی ممبری کے لئے سوائے دعوئی اسلام کے اور ہندوستانی ہونے کے اور ایک مقررہ رقم چندہ کے طور پر دینے کے اور کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے۔ ہر ایک جوان شرطوں کو پورا کرتا ہے خواہ وہ سوراج کا قا ہ سوراج کا قائل ہو، خواہ وہ ہوم رول کا دلدادہ ہو ، خواہ وہ کامل حریت کا شیدائی ہو ، خواہ وہ امن پسندوں میں ہو ، خواہ وہ خوشامدیان سرکار میں سے سمجھا جاتا ہو ۔ خواہ وہ ہندو مسلم اتحاد کا والہ ہو اور خواہ مسلمانوں کے کامل طور پر الگ