انوارالعلوم (جلد 8) — Page 87
انوار العلوم جلد ۸ ۸۷ اساس الاتحاد جلسہ کو برخواست کریں گے کہ ایک ایسی آرگنائزیشن ہو اور وقتی نہیں بلکہ مستقل ہو ۔ گو پچھلے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تو اس امر پر اتفاق کا ہو جانا بھی ایک بہت بڑی بات ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ مشکل سوال ہے کہ یہ نظام کن قوانین کے مطابق کام کرے اور در حقیقت حقیقت یی سوال ہے جس کا حل ہمیں کوئی مستقل نفع دے سکتا ہے ۔ نہ جیسا کہ اس جلسہ مسلم لیگ کے بانیوں کی تحریر سے مترشح ہوتا ہے اور جیسا کہ ضروریات وقت سے ظاہر ہے اس وقت ایک ایسی مجلس کی ضرورت ہے جو تمام مسلمانوں کے قومی فوائد کی نگرانی کرے نہ کہ کسی خاص نقطہ خیال کی۔ اگر آپ لوگوں کے نزدیک کسی خاص نقطہ خیال کی اشاعت یا اس کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہوتی تو آپ لوگ مسلم لیگ کے نام کے نیچے جمع ہوتے بلکہ اس انعقاد کا کوئی اور نام رکھتے کیونکہ مسلمان کہلانے کہلانے والے سب کے سب آدمی گو کلمہ شہادت پر تو جمع ہیں لیکن کسی خاص سیاسی خیال پر جمع نہیں ہیں اور نہ جمع ہو سکتے ہیں اور اگر کسی خاص سیاسی خیال پر جمع کرنا مقصود ہوتا تو اس کے لئے مسلم کی شرط لگانے کی ضرورت نہ تھی۔ سیاسی خیالات میں تو نہ صرف یہ کہ ہم ہر ایک قوم کے ساتھ مل سکتے ہیں بلکہ ہمیں ان کو اپنے ساتھ ملانے کی پوری کوشش کرنی چاہئے پس مسلم لیگ کے نام اور بانیان جلسہ کی تحریرات کو اگر حقیقت کا جامہ پہنانا ہے تو ضروری ہے کہ اس آرگنائزیشن کو ایسے اصول پر قائم کیا جائے کہ اس میں ہر قسم کے سیاہی خیالات کے آدمی جمع ہو سکیں تا اس کا وہی حشر نہ ہو جو پہلی مسلم لیگ کا ہو چکا ہے یعنی ایک ہی اہم اختلاف پیدا ہوا اور مسلم لیگ ٹوٹ کر دو مجلسوں میں تقسیم ہو گئی۔ اگر پہلی لیگ واقع میں مسلم لیگ ہوتی نہ کہ سوراج لیگ یا لبرل لیگ تو وہ افتراق کیوں واقع ہو تا جو اس سے پہلے واقع ہو چکا ہے۔ پس اگر آپ لوگ مسلم لیگ بنانا چاہتے اور اسی قسم کی لیگ کی ضرورت بھی ہے تو اس کو کسی خاص سیاست سے وابستہ نہ کریں بلکہ اسے حقیقی معنوں میں مسلم لیگ بنائیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک لفظ اپنے اپنے دائرہ میں الگ معنے رکھتا ہے لفظ مسلم کی تعبیر مذہبی نقطہ خیال سے اور ہے اور سیاسی نقطہ خیال سے اور مذہبی نقطہ خیال سے تو مختلف فرق اسلام کے نزدیک وہ لوگ مسلم ہیں جو ان اصولی مسائل میں جن پر وہ اپنے نزدیک بنائے اسلام رکھتے ہیں متفق ہوں اور سیاسی نقطۂ خیال کے مطابق ہر شخص جو رسول کریم ال پر ایمان لانے کا مدعی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ نہیں قرار دیتا اور کسی جدید شریعت کا قائل نہیں ہے