انوارالعلوم (جلد 8) — Page 64
انوار العلوم جلد A الد ۱۵ قول الحق غلام ہوں تو کس طرح نہیں مانتے اور اپنے متعلق کہتے ہیں کہ میں آپ کے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں تو کہہ سکتے ہیں کہ میں خدا ہوں۔ اگر کہو مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا خدا ہوں گے تو میں کہتا ہوں رسول کریم اللہ کہتے ہیں ایسے بہت سے خدا ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ نوافل پڑھنے سے انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے کان، آنکھ، ہاتھ پاؤں خدا کے ہو جاتے ہیں ۔ اب جس قدر مؤمن ہیں ان سب کو خدا سب کو خدا کہہ دو۔ پھر اگر اسی طرح خدائی کا دعوی نکل سکتا ہے جس طرح حضرت مرزا صاحب کے متعلق نکالا جاتا ہے تو اس طرح محمد ال کا بھی خدائی کا دعوی ثابت ہو جائے گا کیونکہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى " خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو نے نہیں مارا تھا جب مارا تھا بلکہ اللہ نے مارا تھا۔ ہم کہتے ہیں کنکر تو رسول کریم ا نے پھینکے تھے مگر کہا گیا ہے کہ خدا نے پھینکے اس پر کیا یہ اعتراض نہیں پڑتا کہ رسول کریم اپنا پھینکنا خدا کا پھینکنا قرار دیکر خدا بنتے ہیں۔ اگر نہیں بلکہ اس کی تاویل کی جائے گی تو کیوں اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے الفاظ کی تاویل نہیں کی جاتی؟ پھر کہا جاتا ہے مرزا صاحب نے ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ چنانچہ ۱۷ ابن اللہ ہونے کا دعویٰ ان کا الہام ہے أَسْمَعُ وَلَدِی یہ تو جھوٹ ہے کہ آپ کا یہ الہام ہے یہ کتابت کی غلطی ہے۔ اصل الهام جہاں شائع ہوا وہاں صحیح ہے یعنی وَلَدِی کی جگہ واری ہے مگر باوجود یہ بتا دینے کے مولوی اعتراض کرتے رہتے ہیں کیا اس طرح قرآن کی کتابت کی غلطیاں پیش کر کے آیات پر اعتراض کیا جاسکتا ہے اس طرح جب غیر مذاہب کے لوگ اعتراض کرتے ہیں تو جو جواب مولوی صاحبان ان کو دیتے ہیں وہی اس الہام کے متعلق ہمارا ہے کہ اصل الهام جو شائع شدہ ہے وہ صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔ ۱۸ باقی رہا الهام أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِی ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تو بیٹے کے مرتبہ پر ہے یہ نہیں کہ تو بیٹا ہے۔ میں پوچھتا ہوں اعتراض کرنے والوں نے کبھی سنا ہے کہ کسی نے بھائی کو کہا ہو تو میرے لئے بھائی کے مقام پر ہے۔ یا بھائی کو کہتے ہوں کہ تو بھائی کے مقام پر ہے یہ اسی کو کہا جاتا ہے جو اصل میں بھائی نہیں ہوتا اور اس سے تعلق کے اظہار کے لئے کہا جاتا ہے اسی طرح حضرت مرزا صاحب کی نسبت اللہ تعالی فرماتا ہے تو مجھے ایسا پیارا ہے جیسے بچہ پیارا ہوتا ہے " اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے خدا تعالٰی اپنے بندوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے جتنا ماں اپنے بچہ سے کرتی ہے چنانچہ بدر کی لڑائی کے وقت ایک عورت نہایت گھبرائی ہوئی پھر